ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

زینب قتل کیس ! ’’اونچی آواز میں بات نہ کریں ، نہیں چاہتا کہ ۔۔۔‘‘ چیف جسٹس نے شاہد مسعودکو ایسی بات کہہ دی کہ اینکر پرسن کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا

datetime 28  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زینب قتل کیس کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نے گرفتار ملزم عمران کے 37 بینک اکا ئو نٹس کا دعوی کرنے والے اینکر پرسن کے ثبوت پیش کرنے میں ناکامی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الزامات کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنادی اور کہا کہ کیس کی تفتیش سے باز آجائیں اور الزامات کے ثبوت دیں،جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی،

آپ اس پر عدم اعتماد نہ کریں، جیف جسٹس نے مقتولہ زینب کے والد اور وکیل کے میڈیا پر بیان پر بھی پابندی لگا دی اور مقتولہ کے والد کو ہدایت کی کہ وہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ اتوار کو ۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منظور ملک پر مشتمل 3 رکنی بینچ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔7 سالہ بچی زینب کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم عمران کے بینک اکانٹس کا دعوی کرنے والے اینکرپرسن بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے، کمرہ عدالت میں اینکر کی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو بھی چلائی گئی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت کے روبرو کہا ہے کہ میرے پاس ایک انفارمیشن آئی تھی اور میں نے چیف جسٹس صاحب کو مخاطب بھی کیا تھا کہ اس کی تحقیقات کروائیں ،میں نے یہ خبر نہیں دی تھی ۔ ڈاکٹرشاہد مسعود کا مزید کہناتھاکہ عدالت جو سزا دے گی قبول ہے ، اپنے موقف پر قائم اوران سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ،شاہد مسعود نے عدالت میں مزید کہا ہے کہ عدالت ملزم عمران کو اپنی تحویل میں لے ،ورنہ اسے مار دیاجائے گا۔ اونچی آواز میں بات کرنے پر چیف جسٹس نے ڈاکٹرشاہد مسعود کو جھاڑ پلادی اور ریمارکس دیئے کہ نرمی سے بات کررہاہوں،مگرآپ ہرگزاونچی آواز میں نہ بولیں، نہیں چاہتا کہ حالات میں تناؤ پیداہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…