ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

زینب قتل کیس، ملزم عمران کے بینک اکاؤنٹس اورڈارک ویب کے بعد ڈاکٹر شاہد مسعود کا ایک اور دھماکہ،معاملہ دبانے کیلئے چند روز میں ہی ڈھائی ارب تقسیم،کس کس نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 27  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قصور کی ننھی زینب اور دیگر بچیوں کے پکڑے جانے والے قاتل سے متعلق سنگین دعوے کرنیوالے ڈاکٹر شاہد مسعود نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ’’ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، ابھی میں ان لوگوں کوپکڑ کر دبوچوں گا، میں نہیں چھوڑوں گا ان کو۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف ڈھائی ارب روپے سے کمپین لانچ کی گئی ہے۔

مختلف لوگوں کو کروڑ ، کروڑ 80، 80لاکھ روپے دئیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ جب میں اے آر وائی نیوز میں تھا تو میں نے کئی لوگوں کو کرپشن پر چینل سے نکال دیا تھا وہ لوگ اب بیٹھ کر میرے خلاف کمپین چلا رہے ہیں، میں نے کچھ لوگوں کی انکوائری شروع کروائی تھی اب وہی لوگ اپنا بدلہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ یہ بدمعاشیہ جو کچھ مرضی کر لیں یہ نہیں بچ سکیں گے۔ بدمعاشیہ سے میری مراد صرف سیاستدان نہیں بلکہ میڈیا پر بیٹھے لوگ بھی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک صحافی کو آج دو کروڑ روپے دے دئیے گئے ہیں میرے خلاف کمپین کیلئے۔ کل سے مجھے چینلز پر ہیڈ لائنز بنایا ہوا ہے اس کے پیچھے جو چل رہا ہے وہ صرف ابھی دیکھیں‘‘۔واضح رہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے زینب کے قاتل عمران سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک بین الاقوامی ریکٹ کا کارندہ ہے جو پاکستان میں بچیوں کی متشدد پیڈوفیلیا ویڈیوز بنا کر ڈارک ویب پر لائیو دکھا کر کروڑوں روپے کماتا ہے اور اس کیپاکستان میں 40بینک اکاؤنٹس ہیں اور اس گروہ کی پاکستان میں سرپرستی کرنے والا ایک وفاقی وزیر ہے۔ڈاکٹر شاہد مسعود کے اس دعوے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے از خود نوٹس کیس کی سماعت میں انہیں بھی طلب کر لیا تھا اور ایک کاغذ پر ان سے اس وفاقی وزیر کا نام لکھ کر دینے کا کہا تھا جبکہ اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔ دوسری جانب گزشتہ روز سٹیٹ بینک نے اپنیرپورٹ میں قاتل عمران کے پاکستان کے کسی کمرشل بینک میں بینک اکاؤنٹ ہونے کی تردید کرتے ہوئے ان کے دعوے کو من گھڑت قرار دیا تھا۔ شاہد مسعود کے الزامات پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…