منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے ،امریکی دھمکیاں اور ناقابل قبول زبان پر پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا،اہم ممالک سے مدد طلب کرلی

datetime 26  جنوری‬‮  2018 |

برسلز (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے یورپ کے پارلیمانی حلقوں سے کہا ہے کہ یورپ پاک امریکا تعلقات میں بہتری کیلئے مدد کرے ٗپاکستان ایک خود مختار ملک ہے، امریکی قیادت کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان ناقابل قبول ہے، اس سے افغانستان میں قیام امن کیلئے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔یورپین پارلیمنٹ میں فارن افیئرز کمیٹی، ساؤتھ ایشیا ڈیلی گیشن،

پارلیمنٹ میں موجود مختلف پارلیمانی گروپس کے سربراہوں اور کئی ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ غیر ملکی اور پاکستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے، امریکی قیادت کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان ناقابل قبول ہے، اس سے افغانستان میں قیام امن کیلئے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں بد امنی کا ذمہ دار نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردی کے فروغ کے اثرات پاکستان پر بھی ہوں گے ۔وزیر دفاع نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکا اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے ٗ افغانستان کا 40 فیصد سے زائد رقبہ وہاں کی حکومت کی عملداری میں نہیں، داعش وہاں پنپ رہی ہے ، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں افیون کی ریکارڈ پیداوار حاصل کی گئی جو بذات خود بد امنی کی ایک بڑی وجہ ہے، ان تمام مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔خرم دستگیر خان نے کہا کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے سیکھنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف طویل المدت اور قلیل عرصے کے منصوبے ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد کے نام سے جاری ہیں ٗ پاکستان نے اپنے قبائلی علاقوں سے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں کو نکالا، علاقے سے دہشتگردوں کا خاتمہ کیا اور لوگوں کو واپس ان کے گھروں میں بسایا جبکہ دوسرے آپریشن میں ریا ستی ادارے شہروں سے چن چن کر دہشت گردوں کا خاتمہ کر رہے ہیں ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 30 لاکھ افغان مہاجرین قیام پذیر ہیں جن کی 40 سال سے میزبانی کر رہے ہیں، افغانستان سے ہزاروں افراد روزانہ پاکستان میں آتے ہیں، ہماری گزارش ہے کہ اس سارے عمل کو دستاویزی بنایا جائے اور انہیں احترام کے ساتھ ان کے گھروں میں بسایا جائے تاہم اس حوالے سے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا جاتا، اسی طرح کراس بارڈر ٹیرر ازم کے الزام پر جب ہم نے سرحد پر باڑ لگانی شروع کی تو اس میں بھی تعاون نہیں کیا گیا، یہ باڑ پاکستان مکمل طور پر اپنے وسائل سے لگا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…