منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایک باہمت سبزی فروش جس نے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے تین پہاڑوں کو تن تنہا کاٹ کر سڑک بنا ڈالی،عزم و ہمت کی زندہ داستان جس نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا رکھا ہے

datetime 25  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ہر انسان چاہے وہ غریب ہو یا امیر اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھیں اور انہیں سکول جانے تک تمام سہولیات میسر ہوں۔ دوسری طرف بھارت کی ریاست اڑیسہ کے گاؤں گم ساہی کے ایک شہری کی پہاڑ کاٹ کر سڑک بنانے کی داستان سوشل میڈیا پر وائرل ہے، جس کے حوصلے کی سب ہی لوگ داد دے رہے ہیں، تفصیلات کے مطابق اڑیسہ کے دور افتادہ اور پسماندہ گاؤں گم ساہی سے تعلق رکھنے والے ایک کمزور سے سبزی فروش نے اپنے

بچوں کو سکول بھیجنے کے لیے تین پہاڑوں میں 8 فٹ چوڑی سڑک بنا ڈالی۔ اڑیسہ کے گم ساہی گاؤں میں جالندھر نائیک اور اس کے خاندان کے چند افراد کے علاوہ یہاں کوئی نہیں رہتا، اس گاؤں میں نہ تو بجلی ہے اور نہ ہی پانی کی سہولت ہے، یہاں کے غریب دیہاتی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سے ہجرت کر گئے ہیں۔ جالندھر اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتا تھا، یہ سبزی فروش جالندھر نائیک نہیں چاہتا تھا کہ اس کے بچے بھی اس کی طرح ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک پیٹ بھرنے کے لیے سبزیاں بیچیں، اتنی محنت کرنے کے باوجود وہ پیٹ بھر کر روٹی بھی نہ کھا سکیں۔ اسی وجہ سے جالندھر نائیک نے اپنے تینوں بیٹے اپنے گاؤں سے 10کلو میٹر دور ایک سکول میں داخل کرائے۔ سکول کا راستہ انتہائی دشوار اور پہاڑی تھا، بچوں کو آنے جانے میں چھ سات گھنٹے لگتے تھے، اس کے بچوں کے پاؤں پہاڑی راستوں پر چل چل کر شل ہو جاتے تھے، جنہیں دیکھ کر اس کے دل میں ہوک سی اٹھتی، اس سے یہ سب کچھ نہ دیکھا گیا، وہ بچوں پڑھانا چاہتا تھا، وہ ہرگز انہیں سکول سے اٹھانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ تعلیم میں کتنی طاقت ہے اور تعلیم ہی اس کے بچوں کی زندگی بدل کر رکھ دے گی۔ وہ سر پر ریڑھی اور مزدوری کرنے کی بجائے آرام سے دفتر میں بیٹھ کر کام کریں گے۔ اس موقع پر اس نے ایک مشکل فیصلہ کیا اور وہ فیصلہ تھا

پہاڑ کو کاٹ کر راستہ بنانا۔ جالندھر نائیک نے کلہاڑی اور آئرن راڈ اٹھایا اور پہاڑ کی جانب چل دیا، اب وہ بچوں کی مشکل ختم کرنے کے لیے سبزی فروخت کرنے کے بعد روز پہاڑ پر جاتا تھا اور اسے کاٹ کر راستہ بنانے میں مصروف تھا، اس نے آٹھ فٹ چوڑی سڑک بنانا شروع کر دی، اس باہمت شخص کی راہ میں ایک پہاڑ نہیں بلکہ کئی پہاڑ تھے، یہ شخص اپنے بچوں کو پتھریلے پہاڑوں سے بچانا چاہتا تھا اسی لگن میں وہ روزانہ پہاڑوں کا سینہ چیرتا رہا۔ جالندھر نائیک دو سال میں اکیلے ہی تن تنہا آٹھ کلومیٹر کا پہاڑی

راستہ ہموار کر لیا تھا، جب اس باہمت شخص کو دوسرے گاؤں کے لوگوں نے پہاڑ کھودتے دیکھا تو پورے بھارت میں اس حوالے سے شور برپا ہو گیا۔ جالندھر نائیک نے 5 میں سے 3 پہاڑ کھود ڈالے تھے، 3 پہاڑوں میں اس نے ہموار سڑک بنا لی تھی۔ اس کی داستان جب دوسرے گاؤں والے لوگوں کے ذریعے سوشل میڈیا تک پہنچی تو اس گاؤں کے لوگ جو یہاں سے سہولتوں کی کمی کی وجہ سے واپس چلے گئے تھے انہوں نے واپس آنے کے لیے سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا میں

اس شخص کی حمایت میں لوگوں نے تعریفوں کے پل باندھ دیے اور حکومت کے بارے میں کہا کہ حکومت کہاں سوئی ہوئی ہے ایک اکیلے آدمی نے پہاڑوں کو چیر کر راستہ بنا دیا ہے، کوئی ہے جو اس کی مدد کو آئے، اس شخص کی داستان سوشل میڈیا پر اتنی پھیلی کہ سوئی ہوئی بھارتی حکومت جاگ اٹھی، مقامی ایڈمنسٹریٹر نے بھی آنکھ کھول لی، اب حکومت نے باقی کام سرکاری خرچ پر کروانے کا اعلان کر دیا ہے

اور یہ بھی کہا ہے کہ اس سبزی فروش جالندھر نائیک کو اس کی دو سالہ محنت کا بھی معاوضہ دیا جائے گا، اس نے جتنا کام کیا ہے وہ ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا، اس کا باقی رہ جانے والا مقامی حکومت کرائے گی۔ اب اس غریب جالندھر نائیک کو سکون مل گیا ہے کہ اس گاؤں کے سکول جانے والے بچے اب چھ چھ گھنٹے سفر پر ضائع نہیں کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…