منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قصور کا درندہ صفت قاتل عمران بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد کس طرح قتل کرتا تھا

datetime 24  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زینب کے قاتل عمران کی گرفتاری کے بعد اس سے تفتیش کے دوران ہولناک انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کےمطابق قاتل عمران نے اب تک 5بچیوں سے زیادتی کے بعد انہیں قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ عمران بچیوں کو بہلا پھسلا اور ورغلا کر زیر تعمیر عمارتوں میں لے جاتا ہے اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی گردن توڑ کر

لاش اسی دن ٹھکانے لگا دیتا تھا۔ زینب کے اغوا سے قبل ملزم نے ایک بچی کونور فاطمہ کو اسی طرح زیادتی کے بعد قتل کرنے کی کوشش کی اسے مردہ سمجھ کر پھینک دیا تھا تاہم رب العزت کو نور فاطمہ کی زندگی ابھی منظور تھی اور وہ بچ گئی مگر اپنے اوپر بیتی دلخراش واردات کے باعث نور فاطمہ اس وقت لاہور کے ہسپتال میں زندگی اور موت کے درمیان جنگ لڑ رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق وہ ذہنی طور پر ابھی تک صدمے سے نہیں نکل سکی اور اس کی دماغی صحت بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ نور فاطمہ کے واقعہ کے بعد عمران چوکنا ہو گیا تھا ۔ اس نے زینب کو زیادتی کے بعد اس کی یقینی موت کیلئے اس کی گردن توڑنے کے علاوہ اس کے بازوں اور ٹانگوں کی رگوں کو بھی کاٹ ڈالا تھا جبکہ گلے پر بھی تیز دھار آلے سے وار کر کے اس کی موت کو یقینی بنانے کی کوشش کی تھی۔واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق قصور شہر میں بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کی 12وارداتیں ہو چکی ہیں جبکہ قاتل عمران نے صرف 5وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ باقی 7وارداتوں کا سراغ لگانا ابھی باقی ہے جبکہ اس حوالے سے نہ ہی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور نہ ہی پولیس کی جانب سے کوئی بات کی گئی ہے اور نہ ہی ایسا کچھ سامنے آسکا ہے کہ جس سے پتہ چلتا ہو کہ پولیس ان باقی 7وارداتوں کا سراغ لگانے کیلئے بھی کچھ اقدامات کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…