بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پشاور میں شرمناک واقعہ، 18 سالہ خواجہ سرا کو مبینہ طور پر 9 افراد نے گینگ ریپ کا نشانہ بناڈالا،پولیس کا مقدمہ درج کرنے سے انکار، حیرت انگیز وجہ بتادی

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

پشاور (این این آئی)خواجہ سراؤں کے حقوق اور انہیں تحفظ فراہم کرنے والے ادارے ٹرانس ایکشن پاکستان کے مطابق پشاور میں 18 سالہ خواجہ سرا کو مبینہ طور پر 9 افراد کی جانب سے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔گلبہار پولیس اسٹیشن میں درج شکایت کے مطابق متاثرہ خواجہ سرا کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجھے اغوا کیا اور رات بھر ریپ کا نشانہ بنایا جس کے بعد اگلی صبح مجھے آزاد کردیا۔

نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ریپ کرنے والے 9 افراد میں سے صرف ایک کو پہنچانتا تھا۔پولیس نے اب تک واقعہ کی ایف آئی آر درج نہیں کی اور نہ ہی متاثرہ خواجہ سرا کو طبی معائنے کیلئے بھیجا ہے۔ٹرانس ایکشن پاکستان کے رضاکار تیمور کمال نے پولیس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس کیس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ متاثرہ خواجہ سرا نے ایف آئی آر اور طبی معائنے کی درخواست جمع کرا رکھی ہے تاہم پولیس تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور علاقے کے با اثر افراد خواجہ سراؤں کی کمیونٹی پر معاملہ دبانے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔گل بہار پولیس تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) عمر آفریدی نے متاثرہ خواجہ سرا کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ سرا اپنے ایک دوست کو نیچا دکھانے کے لیے گینگ ریپ کے دعوے کر رہا ہے۔ٹرانس ایکشن پاکستان کے مطابق متاثرہ خواجہ سرا کو اپنی کمیونٹی کے خلاف آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا گیا ہے اور انہیں مستقبل میں اس سے متعلقہ کسی بھی مظاہروں میں شرکت کرنے پر قتل کردیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…