بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

معصوم زینب کے قاتل کو تو پولیس گرفتارکرنے کے بعد پہلے ہی کلین چٹ دے چکی تھی،اسے دوبارہ کیوں اور کس کے دباؤ پر پکڑاگیا؟ بڑا دعویٰ کردیاگیا

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی )عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ قوم کی بیٹی زینب کے قتل کیس میں سب سے پہلے میڈیا کھڑا ہواپھرعوام، عدلیہ ،آرمی چیف کھڑے ہوئے، اس کے بعد شہباز حکومت اور پولیس حرکت میں آئی، اگر بچی کو قتل کیے جانے کی پہلی واردات پر پولیس جاگ جاتی تو قصور کی 11 بیٹیوں کی عزت اور جان بچ سکتی تھی،یہ واقعہ ثبوت ہے کہ سسٹم غیر فعال ہے ۔میڈیا،عوام، سپریم کورٹ اور آرمی چیف نوٹس لیں گے تو انصاف ہو گا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا

کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مجرم شاید اس لیے کٹہرے میں نہیں آ سکے کہ ابھی صرف میڈیا اور شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کھڑے ہوئے ہیں؟ جس دن باقی ادارے کھڑے ہوئے تو ملزم پکڑے جائینگے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ زینب کے قاتل کو مثالی سزا ملنی چاہیے اور قصور سمیت پاکستان کی ہر زینب کے قاتل گرفت میں آنے چاہئیں ۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں شہید ہونے والی تنزیلہ امجد اور شازیہ مرتضیٰ کے قاتل بھی پکڑے جائیں ،قوم کی ان بیٹیوں اور بیٹوں کے قاتلوں کے چہرے کسی شناخت پریڈ ،پولی گرافک اور فرانزک ٹیسٹ کے مرہون منت نہیں ،سب جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ زینب کے قاتل کی گرفتاری کا کریڈٹ زینب کے ورثاء کو جاتا ہے جنہوں نے ملزم کی نشاندہی کی اور گرفتاری کا مطالبہ کیا ورنہ اسی ملزم کو پولیس گرفتار کرنے کے بعد کلین چٹ دے کر چھوڑ بھی چکی تھی ،اگر زینب کے ورثاء ملزم کی نشاندہی نہ کرتے تو پولیس کئی ماہ اور کئی سال اس کیس کو چلاتی اور پھر داخل دفتر کر دیتی۔ لاہور کی پانچ سالہ بچی کے ساتھ پیش آنے والا بداخلاقی کا واقعہ اس کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ جس کے ملزم آج چار سال کے بعد بھی نہیں پکڑے گئے ۔انہوں نے کہا کہ میں باردگر یہ کہہ رہا ہوں کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے حکومت یااس کے کسی ذیلی ادارے کے پاس کوئی ایس او پی اور اور میکانزم نہیں ہے ۔امن و امان کے تحفظ کے ذمہ دار سویلین ادارے اپنی ذمہ داریاں

ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ان کی ترجیحات میں عوام نہیں حکمرانوں کے جان و مال اور سیاسی مفادات کا تحفظ شامل کر دیا گیا۔ اب ان اداروں کی اصلاح اصلاحات سے نہیں تشکیل نو سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے تحت جو انصاف کیلئے کھڑا ہو گا اور پھر اس کے ساتھ ریاست کے طاقتور ادارے کھڑے ہونگے تو پھر ہی انصاف ملے گا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ ہم سانحہ ماڈل ٹاؤن کا قانونی طریقے سے انصاف مانگ رہے ہیں جو نہیں مل رہا، انصاف دینے کیلئے ادارے ناجانے کس بڑے ردعمل کے منتظر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…