بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

افغان جنگ جہاد یا فساد؟ باچا خان نے 40سال پہلے کیاکہا تھا ؟نواز شریف نے کس کو دھوکہ دیا جس پروزارت عظمی سے ہاتھ دھونا پڑے،اسفندیارولی کے انکشافات

datetime 22  جنوری‬‮  2018 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کے سر براہ اسفندر یار ولی نے کہا ہے کہ سوات ایکسپریس وے کیلئے لیا گیا قرضہ صوبے کی کئی آنے والی نسلیں چکاتی رہیں گی ،نواز شریف نے سی پیک میں پختونوں کے ساتھ جو دھوکہ کیا اس کی سزا انہیں مل گئی ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے سعودی عرب کے شہر دمام میں باچا خان اور ولی خان کی برسی کے موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا،

انہوں نے دونوں اکابرین کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ باچا خان اور ولی خان کی ولولہ انگیز کوششوں کے باعث پختونوں کو انگریز سامراج سے آزادی ملی،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے پانچ سالہ دور میں صوبے کے حقوق کی جنگ لڑی اور پختونوں کیلئے ان کی شناخت حاصل کی جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے منافع حاصل کیا ،انہوں نے کہا کہ صوبائی خودمختاری کیلئے جو جدوجہد اے این پی نے کی وہ سیاسی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ، ہمارے لیڈر باچا خان نے 40سال پہلے کہا تھا کہ واقعی افغان جنگ جہاد نہیں فساد ہے آج پوری دنیا کہہ رہی ہے ۔اس وقت لوگ باچا خان کو اسلام اور ملک دشمن قرار دیتے تھے اور دنیا عدم تشدد کے فلسفے سے ناآشنا تھی انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ آج دنیا کے کونے کونے سے عدد تشدد کی آواز اٹھ رہی ہے۔ اس لیے ہم کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل صرف اور صرف باچاخانی ہی بچا سکتا ہے۔اگر باچا خانی نہیں آئی تو یہ ملک کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سی پیک منصوبے میں نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ اس میں پختونوں کا بھی حصہ ہے،اور سوات ایکسپریس وے کو موٹروے کے ساتھ ملایا جائے، انڈس ہائی وے کو ایکسپریس وے کیا جائے۔ اس کے علاوہ چترال سے دیر، دیر سے باجوڑ اور پھر جنڈولہ تک سڑک بنائی جائے تاکہ قبائلی علاقوں کو بھی سی پیک سے فائدہ پہنچے ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے تمام پارٹیوں کے سامنے اے پی سی میں وعدہ کیا

لیکن اپنے وعدے سے مکر گئے جس کی وجہ سے انہیں پختونوں کی بد دعائیں لگ گئیں اور انہیں وزارت عظمی سے ہاتھ دھونا پڑے،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی معدنیات پر پنجاب کی نسلیں پروان چڑھتی رہیں جبکہ ہمارے بچے بھوک سے مرتے رہے تاہم اے این پی نے اپنے دور حکومت میں 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے حقوق حاصل کئے ،انہوں نے پختونوں کے اتحاد و اتفاق کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پختون سرخ جھنڈے تلے متحد ہو جائیں تاکہ ان کے جائز حقوق کا تحفظ کیا جا سکے،

انہوں نے کہا کہ اے این پی کے خاتمے کا خواب دیکھنے والوں کو جلد اپنی حیثیت کا اندازہ ہو جائے گا کیونکہ انہوں نے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے اور صوبے کا خزانہ لوٹ لیا گیا ہے ، انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی کے وزیر نے برملا کہا کہ تمام کرپشن وزیر اعلیٰ نے خود کی ہے لیکن نیب کو سانپ سونگھ گیا ہے اوان الزامات پر کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا، جو شخص دو مرتبہ اپنا گھر نہیں بچا سکا وہ پختونوں کا خیال کیسے رکھ سکتا ہے،انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ میں خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں اور سب کا بلا امتیاز احتساب کیا جائے تو سب کے چہروں سے نقاب اتر جائیں گے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…