جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

بیرون ملک مقیم پاکستانی استعمال شدہ کاریں کیسے درآمد کر سکتے ہیں،انتہائی شاندار اعلان ہوگیا

datetime 22  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد( این این آئی) وزارت تجارت نے ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے سلسلہ میں وضاحت کی ہے کہ صرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بیگج، گفت اینڈ ٹرانسفر آف ریڈیڈنیس سکیمز کے تحت استعمال شدہ کاریں درآمد کرنے کی سہولت حاصل ہے جبکہ بیگج ، گفت اینڈ ٹرانسفر آف ریڈیڈنیس سکیم کے تحت فوائد تجارتی بنیادوں پر گاڑیوں کی درآمد کرنے والوں کو حاصل نہیں ہوں گے ۔

وزارت تجارت نے ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے عمل میں آسانی کو صحیح خطوط پر استوار کئے جانے بارے حالیہ فیصلوں کے سلسلہ میں شراکت داروں ، عوام الناس اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی آگاہی کے سلسلہ میں وضاحت کی ہے کہ صرف سمندر پار پاکستا نیوں کو بیگج ، گفت اینڈ ٹرانسفر آف ریڈیڈنیس سکیمز کے تحت استعمال شدہ کاریں درآمد کرنے کی سہولت حاصل ہے جبکہ درآمدی پالیسی میں اس شق کا استعمال تجارتی بنیادوں پر گاڑیوں کی درآمد کی غرض سے نہیں تھا ۔ اس سکیم کے مسلسل غلط استعمال سے بچنے اور حقیقی طور پر استفادہ کرنے والے یعنی سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت اور آسانی کیلئے درآمدی پالیسی میں اس شق کا اضافہ کیا گیا تاکہ سمندر پار پاکستانی خود اپنے بینک اکانٹ سے ایسی درآمد پر غیر ملکی زرمبادلہ ، ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا کرسکیں ۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی دوسرا بیرون ملک سے استفادہ کرنے والے کے نام پر درآمدات میں فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ تاہم اس وقت درآمدی عمل میں موجود گاڑیوں کے سلسلہ میں غور و خوض جاری ہے اور ایسی گاڑیوں کے سلسلہ میں ابھی فیصلہ کیا جا رہا ہے یا یہ عمل درآمد کے مرحلہ میں ہے تاہم غیر ضروری مشکلات سے بچنے کیلئے صرف ایک مرتبہ یہ درآمدی سہولت دیئے جانے کیلئے شق کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

یہ بات تشویشناک ہے کہ ایک ایسوسی ایشن کی طرف سے ایسے بیانات دیئے جا رہے ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پالیسی کی یہ شق مستقبل میں کی جانے والی تمام درآمدات کیلئے ختم کی جا رہی ہے۔ وزارت تجارت نے وضاحت کی ہے کہ کمرشل درآمدات کبھی بھی استفادہ کی غرض سے نہیں ہوتیں اور نہ ہی یہ درآمد کنندگان بیگج ، گفٹ اینڈ ٹرانسفر آف ریڈیڈنیس سکیمز کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے معاملہ میں جائز شراکت دار ہیں یہ صرف اور صرف سمندر پار پاکستانیوں کیلئے ہے اور ان پاکستانیوں کی طرف اپنے اکانٹس سے ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی ادائیگی کی شق درآمدی پالیسی کا حصہ بن چکی ہے اور ایسا کابینہ کی اقتصادی رابطہ میں غور و خرض کے بعد کیا گیا ۔ وزارت تجارت نے واضح کیا ہے کہ اس پالیسی میں تبدیلی کی توقع پر کوئی بھی گاڑی درآمد کرنے والا اپنے نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا اور کسٹمز حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسی گاڑیاں ضبط کر لیں اور یا ان غیر قانونی درآمدات کے خلاف کوئی دیگر قانونی کارروائی کی جائے ۔ وزارت تجارت کا درآمدی عمل میں پھنسی گاڑیوں کے ماسوا پالیسی کی اس شق میں تبدیلی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…