منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے پاس افغانستان کا 43 فیصد علاقہ موجود ہے تو وہ پاکستان میں کیوں موجود ہیں؟پاکستان نے اصل وجہ بتادی، افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کا اعلان

datetime 19  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو واپس بھیجنا چاہتا ہے تاکہ افغانستان جا کر مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہوں۔برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے پاکستان پر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزامات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے محفوظ ٹھکانے موجود نہیں ہیں اور اگر امریکہ کو شک ہے

اور ان کے پاس کوئی معلومات ہیں تو وہ ہمیں بتائیں کیونکہ ہم بھی انھیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہماری پوزیشن تو یہ ہے کہ ہم ان کو اپنے ملک سے بھیجنا چاہتے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ طالبان اور حقانی ہمارے پاس رہیں، ہم تو ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ جائیں افغانستان میں جا کر رہیں اور اب وہ آپ کا ملک ہے اور وہاں کی مرکزی سیاسی دھارے میں جا کر شامل ہوں اور یہاں پر آپ کا رہنا قبول نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم بالکل نہیں چاہتے کہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان ہمارے ملک میں رہیں اور ہم ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں، ہماری اطلاعات کے مطابق ان کے پاس وہاں 43 فیصد علاقہ موجود ہے تو ان کو پاکستان میں رہنے کی کیوں ضرورت ہے۔ البتہ یہ ہے کہ مہاجرین میں ان کی رشتہ داریاں ہیں اور اسی وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ یہ بھی واپس افغانستان جائیں۔اعزاز چوہدری نے افغان مہاجرین کے حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ اب (مہاجرین) سکیورٹی کے لیے خطرہ اختیار کرتے جا رہے ہیں جس میں نوجوانوں کو وہاں سے بھرتی کیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی واپس جائیں اور اس کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنایا جائے تاکہ برے لوگ نہِ ادھر سے اْدھر جائیں اور نہ ہی اْدھر سے ادھر آئیں۔اعزاز چوہدری نے کہاکہ افغانستان کی سرحد پر مکمل نگرانی نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ آتے ہیں، تو ہماری کوشش اور خواہش یہ ہی ہے کہ دونوں ملک مل کر کام کریں،

اسی میں دونوں کا فائدہ ہے کیونکہ امریکہ کا ہدف افغانستان میں استحکام لانا ہے اور ہمارا بھی یہ ہی ہدف ہے۔امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے اور فوجی تعاون ختم ہونے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے ہیں جس میں ورکنگ لیول پر انٹیلیجنس شیئرنگ بھی شامل ہے۔ہمیں بات چیت کے راستے رکھنے ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ انٹیلیجنس کا تعاون بھی رہے جو ابھی ورکنگ لیول پر ہے بھی، اور آفیشلز کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…