جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل کا از خود نوٹس لے لیا

datetime 19  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (آ ئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے سے 10 روز میں رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ اسکینڈل سے ہمارے سر شرم سے جھک گئے،جعلی ڈگری سے متعلق خبروں سے پاکستان عالمی سطح پر بدنام ہورہا ہیڈی جی ایف آئی اے

ایگزیکٹ اسکینڈل کی مفصل رپورٹ عدالت میں پیش کریں، خبریں سچی ہیں تو اس اسکینڈل کا تدارک ہونا چاہیے، اگر خبریں جھوٹی ہیں تو پاکستان اپنا دفاع کرے ۔ جمعہ کو چیف جسٹس پاکستان نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ایگزیکٹ کے جعلی ڈگری اسکینڈل کا از خود نوٹس لیا اور کیس سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے سے 10 روز میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے کیس کی کتنی ایف آئی آر درج ہوئیں، اس میں کیا پیشرفت ہوئی اور کیا فیصلے آئے۔چیف جسٹس پاکستان نے از خود نوٹس کی کھلی عدالت میں سماعت کرنے کا اعلان کیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت دی کہ ڈی جی ایف آئی اے جعلی ڈگری سے متعلق مہم کا پتاچلائیں، ڈی جی ایف آئی اے ایگزیکٹ اسکینڈل کی مفصل رپورٹ عدالت میں پیش کریں، خبریں سچی ہیں تو اس اسکینڈل کا تدارک ہونا چاہیے، اگر خبریں جھوٹی ہیں تو پاکستان اپنا دفاع کرے ۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اسکینڈل سے ہمارے سر شرم سے جھک گئے، جعلی ڈگری سے متعلق خبروں سے پاکستان عالمی سطح پر بدنام ہورہا ہے، ملک کی بدنامی کرنے والا کوئی بچ کر نہیں جائے گا۔معزز جج نے کہا غالبا جعلی ڈگری اسکینڈل کا معاملہ پہلے بھی منظرعام پر آیا تھا، جعلی ڈگری اسکینڈل سیمتعلق مقدمات عدالتوں میں زیرالتوا بھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…