بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

حادثات، قتل اور لڑکیوں کی خریداری ،خلیجی ممالک کے شیخ اور عرب ممالک کے شہزادے پاکستان میں کون سے شرمناک کام کررہے ہیں؟ افسوسناک انکشافات

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور نے ملک میں عربوں کو تلور کے شکار کی اجازت دینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔پاکستان ادارہ پارلیمانی خدمات اسلام آباد میں چیئرپرسن سینیٹر نزہت صادق کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کا اجلاس ہوا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سعودی عرب میں لاپتہ افراد کی بازیابی کا معاملہ اٹھایا تو سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے معاملے کو جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ یکم فروری کو وفاقی

وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سعودی عرب کا دورہ کریں گے اور معاملہ اٹھائیں گے۔اجلاس میں بلوچستان میں پرندوں کے غیر قانونی شکار کا معاملہ زیر بحث آیا۔ سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ نے کہا کہ سائبیرین پرندے پہلے بڑی تعداد میں سندھ آتے تھے تاہم شیخوں اور عربوں کے شکار کے باعث اب پرندے پاکستان نہیں آرہے، ہالیجی جھیل اور دیگر مقامات پر لاکھوں مہمان پرندے آتے تھے آج ہزاروں رہ گئے ہیں ٗانہوں نے الزام لگایا کہ یہ عرب پاکستان میں حادثات، قتل اور لڑکیوں کی خریداری میں بھی ملوث ہیں، اس معاملے کو عالمی قوانین کے تحت دیکھا جائے۔سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے جواب دیا کہ تلور کے شکارکے لئے صوبائی حکومتیں ہی علاقہ متعین کرتی ہیں ٗوزارت خارجہ صرف پیغام رسانی کرتی ہے، اگرچہ تلور خطرے سے دوچار ہے تاہم اسے معدومیت کا خطرہ نہیں، سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں غیر ملکی شکاریوں کو شکار کی اجازت دی ہے، وزارت ماحولیاتی تغیرات نے اس سلسلے میں رہنما اصول وضع کیے ہیں اور تلور کی افزائش نسل کیلئے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، وفاقی حکومت نے 25 کروڑ روپے تلور کی افزائش کے لئے مختص کر رکھے ہیں، سندھ میں تلور کی آبادی بڑھ رہی ہے، صوبائی حکومت لائسنس جاری کرتی ہے جب کہ خیبر پختون خوا کی حکومت کسی صورت شکار کی اجازت نہیں دیتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…