جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

زیور دس الماریوں میں اور بچی ایسے ہی چھوڑ کر عمرے پر چلے گئے، تیری بچی کو قرآن پڑھنے کون چھوڑنے جاتا تھا؟وزیراعظم آزادکشمیر کا زینب قتل پر شرمناک بیان ، دل گرفتہ والدین کوکس لہجے میں مخاطب کرتے رہے

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

آزاد کشمیر (مانیٹرنگ ڈیسک) زینب قتل پر وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر کا شرمناک بیان سامنے آگیا، زینب کے والدین کے زخموں پر نمک پاشی، عوامی ، سیاسی و صحافتی حلقوں کی شدید مذمت۔ تفصیلات کے مطابق زینب قتل پر وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر کا شرمناک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے نہایت غیر ذمہ دارنہ انداز میں اس اندوہناک واقعہ کے اہم فریق

زینب کے والدین کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ زینب کے والد سے پوچھا جائے کہ تو زینب کو کس کے حوالے کر کے گیا تھا اور جب تیری بچی قرآن پڑھے جاتی تھی تو اس کو کون چھوڑنے جایا کرتا تھا، فاروق حیدر نے مزید کہا کہ زینب کے والدین تو اپنا زیور دس الماریوں میں چھپا کر گئے مگر اولاد جو کسی بھی انسان کیلئے سب سے قیمتی چیز ہوتی ہے اس کے حوالے سے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم آزادکشمیر کے بیان پر پاکستان اور آزادکشمیر کے عوامی، سیاسی و صحافتی حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس اندوہناک واقعہ پر وزیراعظم آزادکشمیر جو کہ نہایت اہم منصف پر فائز ہیں کی جانب سے ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان قابل مذمت ہے۔ نجی ٹی وی سما نیوز کی اینکر کرن ناز سے جب اس حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں راجہ فاروق حیدر کی بات کا جواب دیتی ہوں کہ زینب کے والدین جب عمرے کیلئے گئے تو اپنی بچی کو اپنے ملک میں،اپنی مٹی میں چھوڑ کر گئے اور یہ حکومت کی نا اہلی ہے کہ وہ ان کی بچی کو تحفظ نہ فراہم کر سکی۔دوسری جانب عوامی حلقوں کی جانب سے وزیراعظم آزادکشمیر کے اس لہجے میں زینب کے والدین کو مخاطب کرنے اور اندوہناک واقعہ پر ان سے تعزیت اور ہمدردی کے بجائے اس طرح کے سوالات پر شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…