جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سیالکوٹ کا ایک باپ جس کی 3 نابالغ بیٹیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، ایک بیٹی اغوا ہے، وہ تین ماہ سے لاہور پریس کلب کے باہر بیٹیوں کو لیکر بیٹھا ہے لیکن۔۔! افسوسناک انکشافات

datetime 16  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) خرم شہزاد وکٹر اپنی پانچ بیٹیوں کے ساتھ تین ماہ سے لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاجاً بیٹھا ہوا ہے اور وزیراعلیٰ شہباز کے نام بینر لگایا ہوا ہے کہ ہماری مدد کی جائے، جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا ہے، اس وقت خرم شہزاد وکٹر نے بتایا کہ اپریل 22 میں میری تین بیٹیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی، جس پر سیالکوٹ حاجی پورہ تھانہ نے میڈیکل سردار بیگم ہسپتال میں کرایا تھا، جب ملزم کو پکڑ لیا تو

تھانے والے مجھ پر پریشر دینے لگے کہ یہ تمہارے رشتہ دار ہیں ان سے صلح کر لو کوئی مک مکا کر لو، تو میں نے تھانے والوں کو کہا کہ میری تین بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کیس ہوا ہے میں نے اپنی بیٹیوں کو دیکھا ہے ان کا میڈیکل ہوا ہے، میں نے اپنی بیٹیوں کی ٹانگیں باندھی ہوئی دیکھی ہیں، اس نے بتایا کہ میری بڑی بیٹی گیارہ سال کی ہے اور چھوٹی بیٹی نو سال کی ہے جن سے زیادتی ہوئی ہے، خرم شہزاد وکٹر نے چیف آف آرمی سٹاف اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح دوسری بیٹیوں کو تحفظ دے رہے ہو، خدایا میں تین ماہ سے لاہور پریس کلب کے باہر بیٹھا ہوا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ حکومتی نمائندہ یہاں سے گزرے اور میری مدد کی جائے۔ کوئی دیکھے میری بیٹیوں کو اور ہمیں انصاف کی منزل تک پہنچائے اس شخص نے کہا کہ میری پانچ بیٹیاں میرے ساتھ ہیں اور ایک بیٹی اغواء ہے جو کہ سیالکوٹ میں ان لوگوں کے پاس ہے جن لوگوں نے تھانے والوں کو پیسے ویسے دیکر ہمارے ساتھ ظلم کیا ہے، اس شخص نے اپنا نام خرم شہزاد وکٹر بتایا ہے، اس شخص نے ہاتھ باندھ کر کہا کہ اکتوبر کی سولہ تاریخ سے یہاں احتجاج کر رہے ہیں، میری چیف آف آرمی سے درخواست ہے کہ میرے اور میری بیٹیوں کے ساتھ انصاف کیا جائے، یہ شخص اپنی بیٹیوں کے ساتھ فٹ پاتھ پر گھر بنا کر یہاں انصاف کے حصول کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔ اس آدمی نے بتایا کہ ہم لوگ تین ماہ سے یہاں بیٹھے ہیں یہاں مختلف ٹی وی چینلوں نے کوریج کی ہے مگر کسی نے ہمارے کیس کو اوپن نہیں کیا کوئی حکومتی نمائندہ ابھی تک یہاں نہیں پہنچا کہ ہم جا کر بیٹیوں سے پوچھیں کہ تم بہنوں کے ساتھ کیا ہوا تھا، اگر مجھ سے نہیں تو کم سے کم میری بیٹیوں سے پوچھ لو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…