اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

میرے پاس تم سے بھی بڑا ’’بٹن‘‘ ہے، شمالی کوریا کو ڈرانے والے ٹرمپ کے ایٹمی بٹن کاراز کھل گیا، یہ بٹن کیا کام کرتا ہے اور کس مقصد کے لیے ہے؟ پوری دنیا میں مذاق بن گیا

datetime 16  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی کوریا کے صدر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس کی میز پر کوئی ایٹمی بٹن ہمیشہ سے لگا ہوا ہے، امریکی صدر نے کہا کہ کیا اس بھوکی، ننگی اور پسماندہ قوم کا کوئی بندہ اسے یہ بتا دے گا کہ میرے پاس بھی ایک ایٹمی بٹن ہے جو اس کے بٹن سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور وہ کام بھی کرتا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میز پر کوئی ایٹمی بٹن

نہیں، ان کے اوول آفس میں رکھے ہوئے ریزولوٹ ڈیسک پر خوبصورت اور خالص سرخ رنگ کا بٹن ضرور لگا ہوا ہے اور یہ بٹن ان کی دن بھر میں 12مرتبہ سافٹ ڈرنک منگوانے کے کام آتا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ بھی کلنٹن کی طرح ڈائٹ مشروب پینے کے شوقین ہیں اور دن میں کچھ برگر اور بارہ بوتلیں تو پی ہی جاتے ہیں۔ ریزولوٹ ڈیسک پر لگا ہوا یہ بٹن مشروب منگوانے کے کام آتا ہے اور حماقت ہی ہو گی کہ کسی صدر کے ٹیبل پر ایٹم بم چلانے کے لیے بٹن لگا دیا جائے، کیونکہ یہ ایک خطرناک کام ہے انجانے بھی اگر اسے ہاتھ لگ گیا تو ایٹم چل سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ کا ایٹمی پلان فٹ بال کہلاتا ہے اور فٹ بال ہی کوڈ نیم ہے اور خاکہ بھی ہے اور اس کوڈ نیم سے امریکی صدر کے سوا کوئی واقف نہیں ہے۔ فٹ بال میں امریکی ایٹمی پلان کی تمام تفصیلات درج ہیں، یہ تمام منصوبہ ایک بیگ میں محفوظ ہے جو براک ککس کہلاتا ہے اور یہ تین بٹنوں والا بیگ کبھی امریکی صدر سے جدا نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے ایک شخص ہر وقت سائے کی طرح امریکی صدر کے ساتھ ہوتا ہے، اسی بیگ میں وہ پلان موجود ہے جسے ایٹمی بٹن کہا جاتا ہے۔ اس طرح امریکی صدر کا ایٹمی بٹن کا دعویٰ جھوٹ ثابت ہو گیا ہے اور پوری دنیا میں مذاق بن گیا ہے کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ اس بٹن کو دبا کر صرف مشروب اور برگر منگواتے ہیں اور دنیا کو دبانے کے لیے عجیب و غریب بیانات داغتے رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…