جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

زینب کیس،پنجاب حکومت اور پولیس سنجیدہ نہیں، لاہور ہائیکورٹ

datetime 15  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصورعلی شاہ نے آئی جی پنجاب کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زینب قتل کیس میں پنجاب حکومت اور پولیس سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی ، آئی جی پنجاب آئندہ سماعت پر پیش ہوں۔ پیر کو لاہور ہائیکورٹ

کے چیف جسٹس منصورعلی شاہ نے  زینب قتل کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی تو اس دوران طلب کیے جانے کے باوجود آئی جی پنجاب عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر چیف جسٹس نے سخت نوٹس لیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ طلب کیے جانے کے باوجود آئی جی پنجاب کے پیش نہ ہونے سے لگتا ہے کہ پنجاب حکومت اور پولیس اس کیس میں سجیدہ نہیں ہے۔دوران سماعت پنجاب پولیس کے ایڈیشنل آئی جی اور زینب قتل کیس کی تحقیقات کے لیے بننے والی جے آئی ٹی کے سابق سربراہ ابوبکر خدا بخش عدالت میں پیش ہوئے۔ایڈیشنل آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ زینب کیس میں 67 لوگوں کے ڈی این اے ہوئے۔ڈی جی فارنزک پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان تمام معلومات سے لگتا ہے کہ اس کیس میں سیریل کلر ملوث ہیں کیونکہ اس سے قبل ایک بچی کائنات بھی اس درندگی کا نشانہ بنی جو اس وقت چلڈرن اسپتال میں زیر علاج ہے۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ بچی کائنات کی طبی امداد کے حوالے سے تمام تر اقدامات کیے جائیں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ آئی جی پنجاب آئندہ سماعت پر پیش ہوں اور زینب کے واقعے سے متعلق تفصیلات اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کی تمام معلومات بھی آئندہ سماعت پر پیش کی جائیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بچوں کے جرائم سے متعلق خصوصی عدالت قائم کردی ہے

جو اس طرح کے جرائم کی سماعت کرے گی۔چیف جسٹس نے صوبے بھر کی ماتحت عدالتوں کو بھی حکم دیا کہ بچوں سے متعلق جرائم کے مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے اور ان پر خصوصی توجہ دی جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 17 جنوری تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…