بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

قومی ترانہ کے خالق حفیظ جالندھری کا یوم پیدائش

datetime 15  جنوری‬‮  2018 |

فیصل آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری کا 118 واں یوم پیدائش آج عقیدت واحترام سے منایا جارہا ہے۔ حفیظ جالندھری 14جنوری 1900ءکو بھارتی پنجاب کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے پردادا کا نام امام بخش خان تھا جنہوں نے سید احمد شہید بریلوی کے ساتھ سکھوں کے خلاف جہاد کیا۔آپ کے والد کا نام ماجد شمس الدین اور والدہ محترمہ کا نام بتول بی بی تھا۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم 1905ءمیں جالندھر کی جامع مسجد سے شروع کی اور قرآن مجید ناظرہ پڑھا۔ وہ 1907ءمیں مشن ہائی اسکول میں داخل ہوئے اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول جالندھر میں داخلہ لیا۔ حفیظ جالندھری نے 1909ئ میں حصول علم کیلئے دوآبہ آریہ اسکول میں ایڈمیشن حاصل کیا۔ یہیں سے انکے دل میں جذبہ حریت بیدار ہوا۔ حفیظ جالندھری نے شاہنامہ اسلام لکھ کر اسلامی دور کی

ابتدائی جنگوں کو نہایت پر اثر انداز میں نظم کا جامہ پہنانے کا آغاز کیا۔ حفیظ جالندھری نے اردو شاعری اور پاکستان کیلئے مثالی خدمات سر انجام دیں اور قومی ترانہ تحریر کرکے ہمیشہ ?یلئے امر ہو گئے۔ وہ بیک وقت ایک غزل گو اور نعت گوشاعر بھی تھے۔ حفیظ جالندھری 21 دسمبر 1982 کو 82 سال کی عمر میں رات 11 بجے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انہیں پہلے امانتاً ماڈل ٹاﺅن لاہورکے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا تاہم بعد ازاں 27 ستمبر 1991 ئکو صبح 10 بجے انکا جسد خاکی ماڈل ٹاﺅن لاہور کے قبرستان سے منتقل کرکے مینار پاکستان کے احاطہ میں تعمیر شدہ انکے مزار میں آسودہ خاک کردیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…