جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

برنس روڈ سے لاپتہ ہونیوالا بچہ پراسرارطورپر فجر کے وقت گھر واپس پہنچ گیا،ملزم مجھے ایک قبرستان لے گیا جہاں کھانا کھلایا اور ۔۔۔! معصوم بچے کے چونکادینے والے انکشافات

datetime 14  جنوری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) برنس روڈ سے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والا عثمان گھر پہنچ گیا۔ برنس روڈ گلی نمبر2 کا رہائشی عثمان پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا تھا جسے فجر کی نماز سے قبل ایک شخص گھرکے قریب چھوڑگیا،10 سالہ عثمان کے تایا انصار نے گمشدہ بچے کے گھر پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ بچے پرکسی قسم کا تشدد نہیں ہوا تاہم بچے خوفزدہ اورفوری کچھ بتانے سے قاصر ہے، بچے کو چھوڑکر جانے والا  مبینہ شخص کون تھا،

اس حوالے سے کوئی تاحال کوئی معلومات نہیں مل سکی ہے۔آرام باغ تھانے کی پولیس نے بچے کے گمشدہ ہونے پر والد انوار احمدکی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس میں اغواکی دفعات کو شامل کیا تھا۔برنس روڈ سے پراسرار طور پر اغوا ہونے والے بچے نے گھر پہنچ کر ملزم کا حلیہ اور اغوا سے متعلق تفصیل بتا دی، تفصیلات کے مطابق برنس روڈ گلی نمبر دو زہرہ مینشن کا رہائشی 10سالہ عثمان ولد انوار احمد مدرسے سے گھر جا رہا تھا کہ راستے میں اغوا ہو گیا، واقعے کے خلاف علاقہ مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ کو بند کرا دیا تھا، فجر کے وقت نامعلوم شخص اسے گھر کے باہر چھوڑ گیا۔بچے نے بتایاکہ ایک شخص اسے چیز دلانے کے بہانے برنس روڈ سبزی گلی کی طرف سے ہوتے ہوئے مختلف گلیوں سے گھومتا ہوا نامعلوم مقام پر لے گیا اس کے بعد اسے کچھ یاد نہیں، بچے نے اغوا کرنے والے شخص کا حلیہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس نے شلوار قمیض پہنی ہوئی اور اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی تھی، اس نے مجھے تشدد کانشانہ نہیں بنایا، بچے کے والد نے بتایا کہ میر ابیٹا خوف زدہ اور گھبرایا ہوا ہے، بچہ صحیح سلامت گھر پہنچے پر ہم میڈیا کے شکر گزار ہیں ،بچے کی والدہ دو دن قبل ہی عمرے پر گئی ہے، بچے کی دادی نے کہا کہ اغوا کرنے والے ملزم کوگرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ڈی ایس پی پریڈی مختیار خاصخیلی نے میڈیا کو بتایا کہ بچے کے والدین میڈیکل ٹیسٹ کرانے سے منع کر رہے ہیں تاہم انھیں قانونی تقاضے پورے کرنے پڑیں گے، انھوں نے مزید بتایاکہ گھر پہنچے والے بچے نے بتایاکہ ملزم اسے ایک قبرستان لے گیا جہاں اسے کھانا کھلایا اور فاتحہ پڑھی اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں، ڈی ایس پی نے کہا کہ بچے اوراس کے والدین کا تفصیلی بیانات تھانے جا کر لیں گے جس کے بعد اصل صورتحال واضح ہو سکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…