بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

پنجاب حکومت نے بچوں کے تحفظ کے لیے کمیٹی قائم کردی‘20رکنی کمیٹی کا سربراہ قصور واقعے پر متنازعہ بیانات دینے والے اہم وزیر کو ہی بنادیاگیا

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے بچوں کے تحفظ کے لیے وزیر قانون رانا ثنااللہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی،20 رکنی کے سربراہ بائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ ہونگے ۔ تفصیلات کے مطابق قصور میں 7 سالہ زینب کے اغوا، زیادتی اور

قتل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک بحث کا بھی آغاز ہوگیا ہے۔وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے بچوں کے تحفظ کے لیے کمیٹی قائم کردی جس کی سربراہی صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کریں گے۔وزیراعلی کی جانب سے تشکیل دی گئی 20 رکنی کمیٹی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے جس میں وزیر تعلیم، چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اور آئی جی پنجاب شامل ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی بچوں کے تحفظ کے لیے سفارشات تیار کرے گی اور کمیٹی کا اجلاس روزانہ کی بنیاد پر ہوگا۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی پولیس کے کام کا جائزہ اور آگہی مہم کے لیے سفارشات بھی مرتب کرے گی جب کہ بچوں کے تحفظ کو نصاب کا حصہ بنایا جائے گا۔نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی اساتذہ اور علما کرام سے بھی مشاورت کرے گی۔واضح رہے کہ رانا ثناء اللہ نے اپنے ایک بیان میں بچوں کی گمشدگی کا ذمہ دار ان کے والدین کو قراردیاتھا اور کہاتھا کہ والدین کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…