جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شاہ زیب قتل کیس، سپریم کورٹ کا شاہ رخ جتوئی کا نام ای سی ایل میںڈالنے کا حکم

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شاہ زیب خان قتل کیس ، سول سوسائٹی کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست سماعت کیلئے منظور، مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور دیگر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم جاری۔ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، اگلی سماعت پر تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم۔ تفصیلات کے مطابق شاہ زیب قتل کیس

میں سول سوسائٹی کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست سماعت کیلئے منظور کر لی گئی ہے اور سپریم کورٹ نے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور دیگر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کاحکم دیا ہے۔ سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ رخ جتوئی کے وکیل سینیٹر لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت منظور کرلی ہے۔ ملزمان 5 لاکھ روپے فی کس ضمانتی مچلکے جمع کرائیں گے۔ شاہ رخ جتوئی کے دوسرے وکیل بابراعوان نے کہا کہ اس مقدمے میں ہمارا اعتراض یہ تھا اس کیس سے جن کا تعلق نہیں تھا وہ درخواست دائر نہیں کرسکتے، ایسا ہی حدیبیہ پیپر مل کیس میں ہوا تھا، آج کے فیصلے کے بعد حدیبیہ پیپر ملز میں پی ٹی آئی کے فریق بننے کے چانسز شامل ہو گئے ہیں، آ ج ہم اس حوالے سے پارٹی قیادت سے مشاورت کر کے فیصلہ کریں گے کہ ہمیں حدیبیہ پیپر مل کیس میں عدالت جانا چاہیے یا نہیں۔واضح رہے کہ شاہ زیب کو 2012 میں قتل کیا گیا تھا اور اس واقعے کا اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے نوٹس لیا تھا۔ کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کو بیرون ملک سے گرفتار کرکے لایا گیا تھا۔ ملزمان پر انسداد دہشتگردی

کی دفعات لگائی گئی تھیں، عدالت نے مقتول اور قاتل کے گھر والوں کے درمیان ہونے والا راضی نامہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے شاہ رخ کو پھانسی کی سزا بھی سنائی تھی تاہم سندھ ہائی کورٹ نے مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات خارج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ اسی فیصلے کی رو سے ماتحت عدالت نے ملزمان کی ضمانت منظور کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…