جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

درندگی اور سفاکیت کی وارداتیں تسلسل سے جاری،لاہورمیں کوڑے کے ڈھیرے سے بچے کی لاش برآمد ،پولیس نے لاش کو قبضے میں لیکر تحقیقات شروع کردیں

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) درندگی اور سفاکیت کی وارداتیں تسلسل سے جاری،لاہورمیں کوڑے کے ڈھیر سے بچے کی لاش برآمد ،پولیس نے لاش کو قبضے میں لیکر تحقیقات شروع کردیں،تفصیلات کے مطابق ٹاؤن شپ میں کوڑے کے ڈھیرے سے نو مولود بچے کی لاش برآمد ہوئی ہے ۔ گزشتہ روز راہگیروں نے کوڑے کے ڈھیرے پرنومود کی لاش دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی جس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے کر ہسپتال منتقل کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

دریں اثناء انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے کہا ہے کہ بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعا ت میں پولیس کاروائی میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے ملزمان کی فوری گرفتاری کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے اور بچوں پر جنسی تشدد کے کیسز میں کاروائی میں تاخیری حربے استعمال کرنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی میں قطعی کوئی دیر نہ کی جائے،کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں شہریوں پر تشدد یا فائرنگ کسی صورت قابل قبول نہیں، ایسے فعل کے ذمہ داروں کے خلاف بلا تاخیر کاروائی کی جائے اور پبلک ہینڈلنگ کے لیے وضع کردہ ایس او پیز پر عمل در آمدہر صورت یقینی بنایا جائے ۔ یہ ہدایات انہوں نے سنٹرل پولیس آفس میں صوبے کے تمام آرپی اوز اور ڈی پی اوز کو ویڈیو لنک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے جاری کیں ۔ کانفرنس ایڈیشنل آئی جی آپریشنز عامر ذوالفقار خان، اے آئی جی آپریشنزمحمد کاشف اور پی ایس ٹو آئی جی سجاد حسن منج سمیت دیگر اعلی افسران بھی موجود تھے۔آئی جی پنجاب نے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج، ہنگاموں یا کسی بھی ایمر جنسی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے اینٹی رائٹس فورس کی تربیت اور استعداد کار کو بڑھانے کیلئے بھرپور اقدامات کئے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ تمام اضلاع میں اینٹی رائٹس فورس کے دستے میگا فونز،

واٹر کینن سمیت دیگر ضروری ساز سامان کے ساتھ لیس اوربھرپور ایکشن کیلئے ہمہ وقت تیار ہو۔ انہوں نے تاکید کی کہ پر تشدد ہنگاموں کی صورت میں بھی شہریوں پر فائرنگ کی اجازت نہ دی جائے ،ایسے حالات میں ڈی پی اوز فورس کی کمانڈخود کریں اور جوانوں کو ڈیوٹی پر بھجوانے سے قبل صورتحال کی نزاکت اور ڈیوٹی کی اہمیت کے حوالے سے بھرپور بریفنگ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض بطریق احسن اور عمدگی سے ادا کرسکیں ۔اجلاس میں صوبے کے تمام اضلاع میں بچوں اور خواتین پرتشدد اور زیادتی کے واقعات اور انکی روک تھام کیلئے ہونے والے اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا ۔ آئی جی پنجاب نے تمام افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے تمام ڈی پی اوز اپنی نگرانی میں مؤثر حکمت عملی وضع کریں جس کی ہفتہ وار رپورٹ باقاعدگی سے سنٹرل پولیس آفس بھی بھجوائی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…