ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

حکومت سوتی رہی اور جنسی درندے اپنا گھناؤنا کھیل کھیلتے رہے، 2016 میں جنسی زیادتی کے کتنے ہزار واقعات ہوئے؟کیس رپورٹ کرنیوالوں کے ساتھ پولیس سب سے پہلے کیا کرتی ہے؟شرمناک انکشافات

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) 2015ء میں ایچ آر سی پی کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ کے مطابق قصور میں ہونے والے سانحہ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بہت سے کیسز میڈیا پر آنے کے بعد رپورٹ ہوئے۔ جب والدین سے پوچھا گیا کہ انہوں نے بروقت کیس رپورٹ کیوں نہیں کیاتو انہوں نے اِس کی دو وجوہات بتائیں: ایک تو بدنامی کے خوف سے انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ اور دوسری وجہ یہ کہ جن لوگوں نے پولیس کو اس طرح کے کیسز

بروقت رپورٹ کئے تھے ان کے ساتھ پولیس نے جو سنگدل رویہ اختیار کیا اس سے ان کی دل شکنی ہوئی تھی۔ 2016 میں جنسی زیادتی کے 4139 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 43 فیصد واقعات میں ملوث مجرم متاثرہ بچہ / بچی کے واقف کار تھے جبکہ 16 فیصد کیسز میں زیادتی کرنے والے خاندان کے لوگ تھے۔میڈیا کو بھی اس بات کا احساس کرنا ہو گا کہ اس طرح کے سانحہ کو مکمل ذمہ داری اور قوت کے ساتھ اجاگر کرنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کا فالو اپ بھی اہم ہے تاکہ مجرموں کی جوابدہی یقینی ہو سکے اور اِن مسائل کا مستقل اور دیرپا حل نکالا جا سکے۔ ہماری صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ سکولوں کے نصاب میں اِن حساس موضوعات سے متعلقہ اسباق شامل کریں تاکہ بچے اور والدین ان معاملات کے بارے میں باشعور ہوں اور وہ اپنا تحفظ خود کرنے کے قابل ہو سکیں۔ بطور قوم بچوں کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے اور اس برائی سے نبٹنے میں ہم سب کو مل کر مؤثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ قصور میں ہونے والے سانحہ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بہت سے کیسز میڈیا پر آنے کے بعد رپورٹ ہوئے۔ جب والدین سے پوچھا گیا کہ انہوں نے بروقت کیس رپورٹ کیوں نہیں کیاتو انہوں نے اِس کی دو وجوہات بتائیں: ایک تو بدنامی کے خوف سے انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ اور دوسری وجہ یہ کہ جن لوگوں نے پولیس کو اس طرح کے کیسز بروقت رپورٹ کئے تھے ان کے ساتھ پولیس نے جو سنگدل رویہ اختیار کیا اس سے ان کی دل شکنی ہوئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…