جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قصور میں اس سے پہلے جنسی زیادتی کے جو واقعات پیش آئے اُن سے متاثرہ بچوں کی کیا دادرسی کی گئی ،انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) قصور میں ایک سات سالہ بچی کا بہیمانہ ریپ اور قتل، بعدازاں پولیس تحقیقات میں سست روی اور بچی کو انصاف دلانے کے لیے احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد جیسی صورت حال اقتدار پر براجمان لوگوں کے لیے افسوس کا مقام ہونا چاہیے۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک بیان میں کہا’’سانحہ زینب جیسے لرزہ خیز سانحات کے بعد متعلقہ آفیسرز کو معطل کر دینے یا عدالت عالیہ کی طرف سے

ازخود نوٹس لے لینے سے عوامی جذبات پر تو عارضی طور پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر یہ حکمت عملی ملک میں بچوں کو جنسی زیادتی کی وبا سے نجات نہیں دلا سکتی۔ پنجاب حکومت کو یہ واضح کرنا ہو گا کہ دو روز قبل مظاہرین پر گولیاں کیسے اور کیوں چلائی گئیں۔ فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس سے پہلے قصور میں جنسی زیادتی کے جو واقعات پیش آئے اُن سے متاثرہ بچوں کی کیا دادرسی کی گئی اور اِن گھناؤنی برائیوں کے مستقل خاتمے کے لیے کون سے اقدامات اٹھائے گئے تھے؟ اٹھارہویں ترمیم کے بعد، چائلڈ پروٹیکشن پالیسی تشکیل دینا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ کیا صوبائی حکومتیں بتا سکتی ہیں کہ اُنہوں نے اس حوالے سے اب تک کیا پیش رفت کی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 11 واقعات پیش آتے ہیں اور زیادہ تر متاثرین کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان افسوسناک اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ برائی ہمارے معاشرے میں سرائیت کر چکی ہے اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اِس پر قابو پانے کے لیے فوری ، سخت اور پائیدار اقدامات کریں۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک بیان میں کہا’’سانحہ زینب جیسے لرزہ خیز سانحات کے بعد متعلقہ آفیسرز کو معطل کر دینے یا عدالت عالیہ کی طرف سے ازخود نوٹس لے لینے سے عوامی جذبات پر تو عارضی طور پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر یہ حکمت عملی ملک میں بچوں کو جنسی زیادتی کی وبا سے نجات نہیں دلا سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…