جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں بچوں کے ساتھ سے زیادتی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ،ملک میں روزانہ کتنے معصوم بچے جنسی درندگی کا شکار بنتے ہیں، شرمناک انکشافات

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں بچوں کے ساتھ سے زیادتی کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے اور ملک میں روزانہ 11 معصوم بچے جنسی درندگی کا شکار بنتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 2 سالوں کے دوران بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔پولیس ریکارڈ اور مختلف تنظیموں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اوسطا ہر روز 11 معصوم بچے جنسی درندگی کا شکار بنتے ہیں

اور صرف 2016 میں ملک بھر میں 100 بچے ایسے تھے جو زیادتی کے نتیجے میں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے یا قتل کر دئیے گئے۔پولیس تک پہنچنے والے کیسز میں سے 76 فی صد دیہی علاقوں جب کہ 24 فی صد شہری علاقوں کے تھے۔ جنسی درندگی کا نشانہ بننے والے بچوں میں سے41فی صد لڑکے تھے اور اہم بات یہ ہے کہ بہت سے واقعات پولیس تک پہنچتے ہی نہیں، اس لیے ریکارڈ کا حصہ بھی نہیں بن پاتے۔اس جرم کے خلاف قانون سازی کے باوجود یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا جس کی سب سے بڑی وجہ قانون پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔اسکولوں کی سطح پر بچوں میں جنسی زیادتی سے بچا اور خود کو محفوظ رکھنے کی مہم پر کام کرنے والی تنظیم آہنگ کی سینئر ٹرینر نازو پیرزادہ نے بتایا کہ بچوں کی ہر بات کو سنا جائے اور ان کے تحفظات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے نہ کہ انہیں جھٹلایا جائے۔نازو پیرزادہ نے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں کے رویوں میں آنے والی اچانک تبدیلیوں پر بھی غور کرنا چاہیے اور اگر ان کے بچے اپنے کسی عزیزو اقارب یا اسکول ٹیچر کے پاس نہیں جانا چاہ رہے تو والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کا بغور جائزہ لیں۔  پاکستان میں بچوں کے ساتھ سے زیادتی کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے اور ملک میں روزانہ 11 معصوم بچے جنسی درندگی کا شکار بنتے ہیں۔  پاکستان میں گزشتہ 2 سالوں کے دوران بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…