بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

پشاور سے گزشتہ اکتوبر میں اغوا ہونیوالے نائب افغان گورنر قاضی نبی احمدی بازیاب،کہاں سے ملے ؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 7  جنوری‬‮  2018 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) پشاور سے گزشتہ اکتوبر میں اغوا ہونے والے نائب افغان گورنر قاضی نبی احمدی بازیابی کے بعد اپنے گھر پہنچ گئے ہیں، لیکن ان کی رہائی کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔اسلام آباد میں نائب افغان سفیر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ احمدی اپنے گھر والوں

کے پاس افغانستان پہنچ گئے ہیں لیکن یہ رہائی کیسے اور کہاں ممکن ہوئی، اس بارے میں انھوں نے بھی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔مشرقی صوبہ کنڑ کے نائب گورنر نبی احمدی کو پشاور سے اس وقت نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا جب وہ علاج کی غرض سے ایک معالج کے پاس جا رہے تھے۔حکام کے مطابق نائب گورنر ایک عام افغانی پاسپورٹ پر سفر کر رہے تھے اور ان کی پاکستان آمد کے بارے میں متعلقہ اداروں کو کوئی اطلاع نہیں تھی۔احمدی کا تعلق سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار کے حزب اسلامی گروپ دے ہے جس نے گزشتہ سال ہی افغان حکومت کے ساتھ مصالحت کی تھی۔اس اغوا کی ذمہ داری کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی تھی اور ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ ان کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ بھی کیا گیا۔لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ احمدی کی رہائی کے لیے تاوان ادا کیا گیا یا نہیں۔2016ء4 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے افغان صوبے کے ایک سابق گورنر فضل اللہ واحدی کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا جنہیں بعد ازاں خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان سے پولیس نے بازیاب کروایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…