بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے ذمے غیر ملکی قرضے 980 ارب سے تجاوزکرگئے،پہلا نمبر پر کون سا صوبہ آگیا

datetime 1  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(آن لائن)چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان کے ذمے کل قرضے980 ارب روپے سے تجاوزکرگئے ہیں،جس میں سندھ 256 ارب روپے کے ساتھ سب سے آگے جبکہ گلگت بلتستان کے ذمے سب سے کم قرضے ہیں۔وفاقی حکومت کی طرح تمام صوبوں، آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان نے اپنے اپنے صوبوں میں ترقیاتی پروگراموں کے لیے مختلف عالمی اداروں سے قرضوں کے مختلف پروگراموں

کے تحت 9 ارب 35کروڑ ڈالر یعنی 980 ارب 33 کروڑ روپے سے زائدکے قرضے ادا کرنے ہیں جبکہ دستاویز کے مطابق تمام صوبوں میں سے قرضوں کے حوالے سے سندھ سب سے پہلے نمبر پر ہے۔سندھ نے مختلف منصوبوں کے لیے 256 ارب 24 کروڑ روپے سے زائد کے 102 قرضے لیے ہوئے ہیں، خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے 30 جون تک عالمی اداروں سے مختلف شعبوں میں چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 84 قرضے لے رکھے ہیں جن کی کل مالیت 125 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔بلوچستان حکومت کی جانب سے عالمی امداد کے ساتھ مختلف پروگراموں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضوں کے 84 پروگرام چل رہے ہیں اور صوبائی حکومت نے عالمی اداروں کو 45 ارب 66 کروڑ روپے سے زائدکی رقم ادا کرنی ہے، آزاد جموں وکشمیر حکومت نے 30 جون 2017تک مختلف بین الاقوامی امدادی اداروں کی16 ارب 34 کروڑ روپے سے زائد کے قرضے واپس کرنے ہیں۔آزاد کشمیر نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے غیر ملکی اداروں سی21 قرضے لے رکھے ہیں، گلگت بلتستان کے ذمے سب سے کم قرضے ہیں اور گلگت بلتستان حکومت نے مختلف امدادی اداروں کو 40 کروڑ روپے ادا کرنے ہیں، گلگت بلتستان حکومت کے ذمے قرضے کے ایک پروگرام کے تحت واجب الادا رقم ہے۔دستاویز کے مطابق یہ قرضے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ترقیاتی پروگراموں کی

مد میں دیے گئے تھے اور مختلف ترقیاتی منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں، 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو اس بات کی اجازت دی گئی تھی کہ وہ آئین کی شق167(4) کے تحت خود مختار ضمانت کے تحت مقامی اور بین الاقوامی قرضے لے سکتے ہیں، صوبوں کی جانب سے لیے جانے والے قرضوں کی شرائط وہی ہیں جو وفاقی حکومت اور عالمی امدادی اداروں کے درمیان طے کی ہوئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…