جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

400 اہم پاکستانی شخصیات کے خلاف کارروائی شروع، چیئرمین نیب نے بڑا حکم جاری کر دیا، کھلبلی مچ گئی

datetime 26  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے 435 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کا نوٹس لے لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے پاناما برٹش ورجن آئی لینڈ میں قائم 435 پاکستانیوں کی آ ف شور کمپنیوں کا نوٹس لے لیا ہے اور فوری طور پر نیب کو انکوائری کرنے کا حکم دے دیا ہے انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کسی دباؤ اور

سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا، پاناما اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں آف شور کمپنیاں جن لوگوں نے بنا رکھی ہیں ان میں سابق ایف بی آر کے چیئرمین عبداللہ یوسف بھی شامل ہیں جن کی گرین ڈیل مینجمنٹ کمپنی ہے، ان کے علاوہ شاہد عبداللہ اور شایان عبداللہ کی گرین ووڈ انوسٹر، شیرین انوسمنٹ، گرین ڈیل مینجمنٹ اور عثمان یوسف کی میل بلوف، امیر عبداللہ کی 6 کمپنیاں اس کے علاوہ تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی آف شور کمپنی ایچ ای ایکس اے ایم جو کہ 2004ء میں بنائی گئی اور اس کو برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ کروایا گیا تھا۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ان 435 پاکستانیوں کی پاناما اور برٹش آئی لینڈ میں قائم آف شور کمپنیوں کی انکوائری کرنے کے علاوہ تمام متعلقہ اداروں خصوصاً ایف بی آر، سٹیٹ بینک ، ایس ای سی پی اور ایف آئی اے سے بھی ان کمپنیوں کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے 435 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کا نوٹس لے لیا ہے۔  قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے پاناما برٹش ورجن آئی لینڈ میں قائم 435 پاکستانیوں کی آ ف شور کمپنیوں کا نوٹس لے لیا ہے اور فوری طور پر نیب کو انکوائری کرنے کا حکم دے دیا ہے انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کسی دباؤ اور سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…