منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

6 ممالک کے سٹریٹجک ،اقتصادی اتحاد،مسلسل کوششوں کے بعد پاکستان نے بڑی کامیابی حاصل کرلی ،زبردست اعلان کردیاگیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ تین سال کی مسلسل کوششوں کے بعد پہلی مرتبہ خطہ کو در پیش مسائل کے حل کیلئے افغانستان ، چین، پا کستان ، ترکی اور روس کے درمیان پارلیما نی اتحاد کی تجویز آج ایک ٹھوس صورت اختیا رکر چکی ہے، دہشت گردی سے نمٹنے، علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے کیلئے 23 سے 25 دسمبر تک اسلام آباد میں ہونیوالی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے آمادگی

ظاہر کرنیوالے تمام دوست ممالک کے ہم منصبوں کا شکر گزار ہوں۔6ممالک کے سٹریٹجک ،اقتصادی مفادات کو مدنظر رکھ کر ایک دوسرے کی تحقیق ،تجربات کے باعث کاروباری و تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جائینگے،کانفرنس پائیدار ترقی کی جانب ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔دہشت گردی کو کسی مذہب، قوم، تہذیب یا گروہ سے منسلک نہیں کیا جا سکتا ،کانفرنس میں دہشت گردی کے چیلنج کو حل کرنے کیلئے جامع مذاکرات کئے جائیں گے۔ اسلام آباد میں ہونیوالی 6 ممالک کی سپیکرز کانفرنس کے سلسلہ میں جمعہ کو جاری ایک بیان میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ تین سال کی مسلسل کوششوں کے بعد پہلی مرتبہ خطہ کو در پیش مسائل کے حل کیلئے افغانستان ، چین، پا کستان ، ترکی اور روس کے درمیان پارلیما نی اتحاد کی تجویز آج ایک ٹھوس صورت اختیا رکر چکی ہے، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے، علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے کیلئے 23 سے 25 دسمبر تک اسلام آباد میں ہونیوالی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے آمادگی ظاہر کرنیوالے تمام دوست ممالک کے ہم منصبوں کا شکر گزار ہوں۔انہوں نے کہا کہ ان 6 ممالک کے سٹریٹجک اور اقتصادی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے کی تحقیق اور تجربات کے باعث کاروباری و تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس باہمی بیٹھک سے خطہ میں امن کی نئی راہیں کھلیں گی اور مکالمہ کی نئی جدتیں روشن ہوں گی،

یہ کانفرنس پائیدار ترقی کی جانب ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ امن، مکالمہ اور مضبوط رابطے، خو شحال معاشرے کے قیام کیلئے بنیادی جزو ہیں جوآئندہ نسلوں کی پائیدار ترقی کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ 6 ممالک نہ صرف جغرافیائی مماثلت کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں بلکہ مشترکہ تہذیب، تجارت، سیاحت اور ثقافت کے بھی امین ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمانی قیادت کی بصیرت اور تجربات کے باعث باہمی رابطوں کو جوڑنے اور مضبوط کرنے میں نہ صرف معاونت حاصل ہو گی بلکہ ہم دہشت گردی جیسے ناسور کو ختم کرنے میں بھی کامیاب ہوں گے۔

سپیکر نے اس توقع کا اظہار کیا کہ کانفرنس کے دوران ان کے ہم منصب باہمی تعلقات، بین الاقوامی معاملات، امن، خوشحالی اور استحکام کیلئے تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت، اقوام متحدہ، ایس سی او اور دوسری علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے فریم ورک کو مزید مستحکم بنانے، علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے اور اپنے ممالک کی سرحدوں کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قوم، تہذیب یا گروہ سے منسلک نہیں کیا جا سکتا اور اس کانفرنس میں دہشت گردی کے چیلنج کو حل کرنے کیلئے جامع مذاکرات کئے جائیں گے۔ سپیکر نے کانفرنس میں شرکت کیلئے آنے والے افغانستان، چین، ایران، روس اور ترکی کے پارلیمانی وفود کو خوش آمدیدکہتے ہو ئے کہا کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم دہشت گردی کے ناسور پر قابو نہ پا لیں اور یہ منزل ہمیں باہمی رابطوں سے ہی ملے گی۔



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…