جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

اندازہ یا مفروضہ نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے سیلفیاں لینے والے افراد ذہنی مریض قرار

datetime 19  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)ماہرین نفسیات نے سیلفیاں لینے کے شوقین افراد کو ذہنی مریض قرار دیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس بیماری کا نام سیلفیٹس رکھا گیا ہے اور اس کی تین اقسام بتائی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، سیلفیاں لینے والے افراد بنیادی طور پر توجہ کے طلبگار ہوتے ہیں اور ان میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے۔ یہ لوگ وقتا فوقتا سیلفیاں کھینچتے ہیں اور اپنی

سماجی ساکھ کو بڑھانے اور خود کو گروپ کا حصہ محسوس کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔جرنل آف مینٹل ہیلتھ اینڈ ایڈکشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، امریکن سائکاٹرک ایسوسی ایشن کی جانب سے پہلی مرتبہ سیلفیٹس کا ذکر 2014 میں ایک مقالے میں کیا تھا جس کے بعد برطانیہ کی ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی بھارت کے اسکول آف مینجمنٹ تھیاگرجر نے اس بات پر تحقیق شروع کر دی کہ آیا واقعی اس بات میں صداقت ہے۔جب اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ واقعی سیلفی لینے والے ذہنی مریض ہوتے ہیں، ماہرین نے اس بات پر غور شروع کیا کہ مرض کی شدت کی جانچ کیسے کی جائے۔انہوں نے کہاکہ یہ مرض تین کیٹگری میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جس میں بارڈر لائن(ذہنی مریض بننے کے قریب پہنچ جانا)، اکیوٹ (شدید مرض میں مبتلا ہو جانا) اور کرونک (دائمی مرض یعنی بیماری بہت پرانی ہے)شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق، بارڈر لائن کا مطلب یہ ہے کہ مریض دن میں تقریبا دو سے تین مرتبہ سیلفی لیتا ہے تاہم اسے سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کرتا، اکیوٹ کا مطلب یہ ہے مریض اپنی زیادہ تر توانائی زیادہ سے زیادہ سیلفیاں بنانے پر خرچ کرتا ہے اور اسے سوشل میڈیا پر یعنی آن لائن جاری بھی کرتا ہے،۔کرونک کا مطلب یہ ہے کہ مریض خود کو سیلفیاں لینے سے روک نہیں پاتا اور ہر وقت تصاویر لیتا ہے اور انہیں دن میں 6 مرتبہ آن لائن شیئر کرتا ہے۔ناٹنگھم یونیورسٹی کے

پروفیسر مارک گریفتھ کا کہنا ہے کہ نئی ریسرچ سے ماہرین کو وہ تمام ڈیٹا مل جاتا ہے جو سیلفیٹس کیلئے درکار تھا۔انہوں نے کہا کہ گزرتے وقت کے ساتھ ممکن ہے کہ سیلفیاں لینے کا طریقہ تبدیل ہوجائے لیکن 6 ایسے عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے جو کسی بھی سیلفیٹس کے مریض کو پہچاننے کیلئے کافی ہیں۔ماہرین نے اپنی ریسرچ کے دوران 400 کی عادتوں کا جائزہ لیا اور ساتھ ہی

سیلفیاں لیتے وقت اموات کے ڈیٹا کو بھی مد نظر رکھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…