جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

دھڑلے سے قبضہ اور عمارت تعمیر کرو بس حمزہ شہباز کی جہازی سائز تصویر لگائیں اور دکان بھی جائز اور پلازہ بھی، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 18  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور میں غیرقانونی عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے خبریں یوں تو آئے روز میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں اور ان کے خلاف کبھی کارروائی اور کبھی کارروائی نہ ہونے پر سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے تحسین و تنقید کا بھی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان غیر قانونی تعمیرات کے پیچھے سیاسی اثر و رسوخ اور مفادات بھی کارفرما ہوتے ہیں۔

مارکیٹوں میں حدود سے تجاوز اور برآمدوں اور سڑکوں پر تاجروں کی جانب سے کرایوں اور من چاہے افراد کو سٹالز لگانے کی اجازت دئیے جانے کی بھی خبر میڈیا پر آتی رہتی ہیں۔ جب ان سٹالز اور تجاوزات کے خلاف حکومتی ادارے آپریشن کرتے ہیں تو یہی تاجر حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور کئی مرتبہ تو شٹر ڈائون ہڑتال بھی کر دی جاتی ہے۔ کسی بھی مارکیٹ میں ناجائز تجاوزات ، سٹالز انجمن تاجران کے عہدیداروں اور مرضی سے قائم نہیں کی جا سکتیں اور ان سٹالز اور تجاوزات سے حاصل ہونے والی کمائی تاجر تنظیموں کے عہدیداروں کی جیب گرم کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔ ایسا ہی کچھ لاہور میں بھی جاری ہے اور اس وقت دلچسپ صورتحال دیکھنے میں آئی جب نجی ٹی وی لاہور نیوز کی سروے ٹیم شو مارکیٹ میں ہونیوالی آتشزدگی اور تاجران کے مسائل جاننے کیلئے وہاں پہنچی۔ اس دوران سروے ٹیم نے دکانداروں سے آتشزدگی میں ہونے والے نقصانات بارے سوالات بھی کئے۔ سروے ٹیم کے ہمراہ تاجر رہنما بھی موجود تھے۔ اس موقع پر تاجروں نے آتشزدگی سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی قسم کا کوئی حکومت سے معاوضہ نہیں ملا۔ ایک تاجر نے شارٹ سرکٹ کے باعث دکان جلنے کا بتایا جس پر صحافی نے سوال کیا کہ تاریں تو ابھی بھی کھمبوں سے لٹک رہی ہیں آپ اس کی شکایت حکومتی

اداروں کو کیوں نہیں کرتے جس پر تاجر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہماری شکایت کوئی نہیں سنتا۔ صحافی نے ایک تاجر رہنما سے سوال کیا کہ حمزہ شہباز پیسہ دے کر بھول جاتے ہیں، ان کے پاس بہت پیسہ ہے، جس پر تاجر رہنما کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی پیسہ نہیں ملا، اس دوران سروے ٹیم نے تاریخی مسجد بیگم شاہی کی دگرگوں حالت کو بھی کیمرہ میں محفوظ کیا جس کی حالت انتہائی خراب تھی۔

صحافی نے تاجر رہنما سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ سننے میں آیا ہے کہ یہاں بہت سے عمارات غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہیں جس پر تاجر رہنما کا کہنا تھا کہ یہاں سب عمارتیں غیر قانونی ہیں۔ صحافی نے دوبارہ سوال پوچھا کہ غیر قانونی عمارت پر حمزہ شہباز کی جہازی سائز تصویر اور بینر لگ جائے تو چل جاتا ہے سب جس پر تاجررہنما نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز

کی تصویر لگائیں تو سب چل جاتا ہے، دکان بھی اور پلازہ بھی ۔ اس دوران سروے ٹیم تجاوزات کے حوالے سے سروے کرتی رہی اور تاجروں کے مسائل بھی سنتی رہی جس میں تاجر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے جنہوں نے تاجروں کے مسائل سے متعلق سروے ٹیم کو آگاہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…