منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

دھڑلے سے قبضہ اور عمارت تعمیر کرو بس حمزہ شہباز کی جہازی سائز تصویر لگائیں اور دکان بھی جائز اور پلازہ بھی، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 18  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور میں غیرقانونی عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے خبریں یوں تو آئے روز میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں اور ان کے خلاف کبھی کارروائی اور کبھی کارروائی نہ ہونے پر سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے تحسین و تنقید کا بھی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان غیر قانونی تعمیرات کے پیچھے سیاسی اثر و رسوخ اور مفادات بھی کارفرما ہوتے ہیں۔

مارکیٹوں میں حدود سے تجاوز اور برآمدوں اور سڑکوں پر تاجروں کی جانب سے کرایوں اور من چاہے افراد کو سٹالز لگانے کی اجازت دئیے جانے کی بھی خبر میڈیا پر آتی رہتی ہیں۔ جب ان سٹالز اور تجاوزات کے خلاف حکومتی ادارے آپریشن کرتے ہیں تو یہی تاجر حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور کئی مرتبہ تو شٹر ڈائون ہڑتال بھی کر دی جاتی ہے۔ کسی بھی مارکیٹ میں ناجائز تجاوزات ، سٹالز انجمن تاجران کے عہدیداروں اور مرضی سے قائم نہیں کی جا سکتیں اور ان سٹالز اور تجاوزات سے حاصل ہونے والی کمائی تاجر تنظیموں کے عہدیداروں کی جیب گرم کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔ ایسا ہی کچھ لاہور میں بھی جاری ہے اور اس وقت دلچسپ صورتحال دیکھنے میں آئی جب نجی ٹی وی لاہور نیوز کی سروے ٹیم شو مارکیٹ میں ہونیوالی آتشزدگی اور تاجران کے مسائل جاننے کیلئے وہاں پہنچی۔ اس دوران سروے ٹیم نے دکانداروں سے آتشزدگی میں ہونے والے نقصانات بارے سوالات بھی کئے۔ سروے ٹیم کے ہمراہ تاجر رہنما بھی موجود تھے۔ اس موقع پر تاجروں نے آتشزدگی سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی قسم کا کوئی حکومت سے معاوضہ نہیں ملا۔ ایک تاجر نے شارٹ سرکٹ کے باعث دکان جلنے کا بتایا جس پر صحافی نے سوال کیا کہ تاریں تو ابھی بھی کھمبوں سے لٹک رہی ہیں آپ اس کی شکایت حکومتی

اداروں کو کیوں نہیں کرتے جس پر تاجر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہماری شکایت کوئی نہیں سنتا۔ صحافی نے ایک تاجر رہنما سے سوال کیا کہ حمزہ شہباز پیسہ دے کر بھول جاتے ہیں، ان کے پاس بہت پیسہ ہے، جس پر تاجر رہنما کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی پیسہ نہیں ملا، اس دوران سروے ٹیم نے تاریخی مسجد بیگم شاہی کی دگرگوں حالت کو بھی کیمرہ میں محفوظ کیا جس کی حالت انتہائی خراب تھی۔

صحافی نے تاجر رہنما سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ سننے میں آیا ہے کہ یہاں بہت سے عمارات غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہیں جس پر تاجر رہنما کا کہنا تھا کہ یہاں سب عمارتیں غیر قانونی ہیں۔ صحافی نے دوبارہ سوال پوچھا کہ غیر قانونی عمارت پر حمزہ شہباز کی جہازی سائز تصویر اور بینر لگ جائے تو چل جاتا ہے سب جس پر تاجررہنما نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز

کی تصویر لگائیں تو سب چل جاتا ہے، دکان بھی اور پلازہ بھی ۔ اس دوران سروے ٹیم تجاوزات کے حوالے سے سروے کرتی رہی اور تاجروں کے مسائل بھی سنتی رہی جس میں تاجر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے جنہوں نے تاجروں کے مسائل سے متعلق سروے ٹیم کو آگاہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…