جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

تین بار فائرنگ ہوئی اور پھر بم پھٹا،سارے دروازے توڑ دیے لیکن ۔۔۔! کوئٹہ حملے کے عینی شاہد چندا مسیح کی غیرملکی نشریاتی ادارے سے گفتگو، حیرت انگیزانکشافات

datetime 17  دسمبر‬‮  2017 |

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) عینی شاہد چندا مسیح نے کہاہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائی کی وجہ سے بڑا جانی نقصان نہیں ہواجب حملہ ہوا تو اس وقت گرجا گھر میں تقریباََ400 افراد موجود تھے ۔گزشتہ روز چندا مسیح حملے کے وقت گرجا گھر میں ہی موجود تھے۔ انھوں نے غیر ملکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ چرچ میں دعا کا آغاز ہوا ہی تھا جس کے دوران دو تین بار فائرنگ ہوئی اور پھر بم پھٹا۔گرجا گھر میں آج مذہبی عبادات کا سلسلہ جاری تھا

اور سنڈے سکول (مسیحی مشنری سکول )کے طلبا بھی وہاں موجود تھے جو حملے کے وقت ایک پروگرام پیش کرنے کی تیاریوں میں تھے۔حملے کے عینی شاہد اور سنڈے سکول کے ایک نوعمر طالب علم نے بتایا کہ ‘انھوں نے پہلے فائرنگ کی اور پھر سنڈے سکول کے شیشوں کے سامنے بم لگا کے دھماکہ کیا اور پھر چرچ کے دروازے کے آگے بم لگا کے دھماکہ کیا۔ سارے دروازے توڑ دیے لیکن اندر نہیں گھس سکے۔’چندا مسیح نے بتایا کہ دوتین بار فائرنگ ہوئی اور پھر دھماکہ ہواطلبہ کے ساتھ تیاریوں میں مصروف ایک خاتون استاد نے بتایا کہ ‘آج سنڈے سکول کے بچوں کا پروگرام تھا۔ اور ہم لوگ تیاری کررہے تھے کہ ایک دم بہت برے طریقے سے فائرنگ شروع ہوگئی، بم بلاسٹ ہوا اور گیٹ ٹوٹ گیا’۔انھوں نے مزید کہا کہ ‘ہم ایک دم اپنے سنڈے سکول کے کمرے میں بچوں کو لے کے نیچے بیٹھ گءِے۔ ہمارے سنڈے سکول کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ دو چار بچے زخمی ہوئے لیکن ان بچوں کو نیچے کرکے بیٹھ گئے۔ باقی چرچ وغیرہ کا بہت زیادہ نقصان ہوا۔ کافی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ شیلنگ بہت زیادہ ہوئی، فائرنگ بہت زیادہ ہوئی، سب کچھ ٹوٹ پھوٹ گیا۔دریں اثناء صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے زرغون روڈ پر واقع چرچ پر حملے کے بعد صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سیکورٹی مزید سخت کردی گئی ۔تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز کوئٹہ کے علاقے زرغون روڈ پر دہشت گردوں کی جانب سے حملے

کے بعد کوئٹہ کے امام بارباہوں ،مساجد اور دیگر مقامات پر سیکورٹی سخت کردی گئی اور حفاظتی عملے میں بھی اضافہ کردیاگیا ،سیکورٹی فورسز کی جانب سے چرچ پر حملے کے بعد کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کردیاگیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے چرچ وگردنواح میں جاری آپریشن کے بعد چرچ کو کلیئر کردیاگیا ۔کوئٹہ کے علاقے زرغون روڈ پر واقع چرچ پر حملے میں ملوث خودکش بمباروں کی عمریں 16 سے 20 سال کے درمیان تھی ۔ڈائریکٹر سول ڈیفنس کے مطابق دونوں حملہ آوروں کی عمریں 16 سے 20 سال کے درمیان تھیں جب کہ اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک دہشت گرد کی خودکش جیکٹ ناکارہ بنا دی گئی۔ڈائریکٹر سول ڈیفنس کے مطابق حملہ آوروں کی خودکش جیکٹ میں تقریبا 15 ،15 کلو بارودی مواد موجود تھا اور خودکش جیکٹوں میں 10، 10 میٹر پرائما کارڈ بھی استعمال کیا گیا۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…