پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

گرم کھانے سے منہ جل گیا تو فوری ریلیف میں مدد گار طریقے جانیں

datetime 15  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) موسم سرما کی شدت میں ہر گزرتے روز کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور گرما گرم غذاﺅں کا استعمال بھی اس کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے۔مگر سوپ ہو، کافی، چائے یا یخنی وغیرہ، وہ اپنے ساتھ ایک خطرہ بھی لے کر چلتی ہیں اور وہ ہے زبان یا منہ کا جلنا۔یقیناً آپ کو بھی اس کا تجربہ تو ہوا ہوگا جب اچانک گرم چیز منہ میں جانے سے زبان جلنے کا احساس ہوتا ہے۔تاہم اگر ایسا تجربہ ہو تو درج ذیل طریقہ کار اپنانے سے جلن کے احساس کی شدت کم کرکے اس سے نجات کے عمل کو تیز کیا جاسکتا ہے۔

آئسکریم اور دہی جیسی کریم والی چیزیں اس معاملے میں مددگار ثابت ہوتی ہے تاہم انہیں زیادہ مقدار میں کھانے سے گریز کرنا چاہیے، ان کی ٹھنڈک عارضی طور پر تو سکون پہنچاتی ہے مگر زیادہ مقدار سے نقصان ہوسکتا ہے۔ ایک اور عام سا ٹوٹکا نمک کو ماﺅتھ واش میں مکس کرکے اس سے کلیاں کرنا ہیں، اس محلول کا سن کردینے والا اثر منہ کو فوری ریلیف پہنچاتا ہے۔گرم، نمکین اور کرکری اشیاءسے گریزمنہ جلنے کا تجربہ ہونے پر چند دن تک غذائی عادات میں تبدیلیاں لائیں، یعنی چند دن تک مصالحے دار غذاﺅں سے دور رہیں جو جلن کے احساس کو بڑھا کر تکلیف کی شدت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، اسی طرح نمکین غذاﺅں سے بھی یہی اثر ہوتا ہے جبکہ چپس جیسی کرکری چیزوں کے کونے اس تکلیف کو بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔گرم چائے یا کھانے نے زبان کو جلا دیا ہے، اگر ایسا تجربہ ہو تو چٹکی بھر چینی کو چوس لیں، اس سے فوری ریلیف میں مدد ملے گی۔ایلوویرا جلد کی جلن میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جبکہ منہ کی جلن میں بھی فائدہ مند ہوتا ہے، ایسے سیال سے کلیاں کریں جس میں ایلو ویرا ایکسٹری موجود ہو، ویسے ایلوویرا جیل اور جوس کی شکل میں بھی مل جاتا ہے۔اگر منہ جلنے کے بعد زبان میں سرخی، معمولی سوجن یا ورم، درد ، جلد پھٹنا اور خشکی نظر آئے تو اس صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ طبی امداد سے زخم کو بگڑنے سے روکا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…