منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

فاروق ستار کے پیچھے کون ہے؟ کس کے احکامات پر عمل کیاجارہاہے؟رکن رابط کمیٹی ایم کیو ایم لندن پرنسز امبر خان کے انکشافات

datetime 10  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) رکن رابط کمیٹی ایم کیو ایم لندن پرنسز امبر خان کے اہم انکشافات سامنے آگئے ۔ امبر خان نے انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان ایک ہیں۔ ایم کیو ایم لندن کے اجلاسوں میں الطاف حسین نے واضح طور پر کہا ہے کہ فاروق ستار اور

ایم کیو ایم پاکستان میری اجازت سے پاکستان میں سیاست کررہی ہے۔ ایم کیو ایم لندن میں ہونے والے اجلاسوں میں الطاف حسین نے کہا تھا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ مجھے پاکستان میں سیاست نہیں کرنے دے رہی اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ فاروق ستار کی سربراہی میں پاکستان میں ایم کیو ایم پاکستان کام کرے۔ رکن رابط کمیٹی لندن پرنسز امبر خان نے مزید انکشاف کیا کہ الطاف حسین نے رابط کمیٹی کے اجلاس میں واضح طور پر کہا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان ہماری پالیسی کے تحت کام کرے گی۔ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان رابط کرانے کی ذمہ داری نسرین جلیل کو دی گئی ہے ۔ پرنسز امبر خان کے مطابق جب ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان ایک ہے تو 9دسمبر کوعزیزہ آباد مکا چوک پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیو ایم کی خواتین پر تشدد کیا اور گرفتار کیا تو فاروق ستار کیوں خاموش رہے۔ امبر خان نے بتایا کہ گزشتہ روز دبئی سے سابق گورنر عشرت العباد خان نے الطاف حسین سے فون پر رابط کرکے کہا کہ وہ فوج کیخلاف بیان نہ دیں۔ کچھ روز تک فوج کے حق میں بیان دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…