جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

عراقی وزیراعظم نے داعش کے خلاف فتح کا دعویٰ کر دیا، عراقی فوج کی کنٹرول سنبھالنے کی اطلاعات

datetime 9  دسمبر‬‮  2017 |

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک)عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے اعلان کیا ہے کہ عراقی افواج نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ تنظیم کے خلاف جنگ میں مکمل فتح حاصل کرلی ،گذشتہ کچھ عرصے میں دولتِ اسلامیہ کو پے درپے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور عراقی دستوں نے ان کے زیرقبضہ تمام چھوٹے بڑے شہروں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔غیرملکی میڈیاکے مطابق وزیراعظم حیدرالعبادی نے دارالحکومت بغداد میں ایک نیوز کانفرنس میں

بتایا کہ گذشتہ ماہ نومبر میں سرحدی قصبے راوا کو بازیاب کرانے کے بعد دولتِ اسلامیہ سے اس کا آخری اڈہ بھی فتح کر لیا تھا۔ وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا کہ ان کی فوج نے اب عراق اور شام کی سرحد کا مکمل کنٹرول بھی حاصل کرلیا ہے جہاں کچھ عرصے پہلے تک دولتِ اسلامیہ کئی علاقوں پر قابض تھی۔وزیراعظم حیدرالعبادی کا کہنا تھا کہ دشمن عراقیوں کی تہذیب کو مٹانا چاہتا تھا لیکن عراقیوں کے عزم اور حوصلے نے بہت کم وقت میں اِس کوشش کو ناکام بنادیا ہے۔گذشتہ ماہ شامی حکام نے بھی دعوی کیا تھا کہ انھوں نے سرحدی قصبے البوکمال کو دولت اسلامیہ سے آزاد کرالیا ہے جو شام میں ان کا آخری گڑھ تھا۔ عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی کے اس اعلان سے صرف دو روز پہلے شام میں روسی حکام نے بتایا تھا کہ انھوں نے دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کا اپنا آپریشن مکمل کرلیا ہے۔ 2014 میں اِس شدت پسند گروہ نے موصل، رقہ اور کئی دوسرے شہروں پر قابض ہونے کے بعد اپنی خلافت کا اعلان کردیا تھا۔ عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے زیرقبضہ علاقوں میں تقریبا ایک کروڑ لوگ آباد تھے۔تاہم گذشتہ دو برسوں میں اِسے پیدرپے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اِس برس جولائی میں اسے عراقی شہر موصل اور شام میں اپنے خودساختہ دارالحکومت رقہ سے بھی بھاگنا پڑا تھا۔ دولت اسلامیہ کے بہت سے جنگجو شام کے دوردراز علاقوں کی طرف نکل گئے تھے جبکہ خاصی تعداد ترکی کی جانب بھاگ گئی تھی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…