پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

شوگر اور بلڈ پریشر سے نجات کا بہترین اور آزمایا ہوا نسخہ

datetime 4  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب  ڈیسک )کیا آپ زندگی میں موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے امراض سے بچنا چاہتے ہیں؟ تو بس گاڑی کا استعمال چھوڑ کر بسوں پر سفر کریں اور گھر کے بنے کھانے کو ہی استعمال کریں۔یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ہاورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کسی پرہجوم بس میں کھانے کا ڈبہ پکڑ کر سفر کرنا دیکھنے میں چاہے جتنا بھی خراب لگے مگر یہ انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

درحقیقت فٹ اور صحت مند رہنے کا اصل راز ہی گاڑی کا استعمال چھوڑنے اورگھر کے بنے کھانوں کے استعمال میں چھپا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اپنے طرز زندگی میں ان دو معمولی تبدیلیوں سے آپ مجموعی صحت پر حیرت انگیز مثبت اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہفتہ بھر میں 11 بار گھر کا بنا کھانے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 13 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔اسی طرح جو لوگ روزانہ اپنی گاڑی کی بجائے پبلک ٹرانسپوٹ سے سفر کرتے ہیں ان میں ذیابیطس کا امکان 34 فیصد، ہائی بلڈ پریشر کا 27 فیصد اور موٹاپے کا خطرہ 44 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔اسی حوالے سے کینیڈا میں ہونے والی ایک الگ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں وہ آسان سے دکانوں تک چہل قدمی کرکے جاسکیں، ان میں ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔دونوں تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپوٹ اور مختصر چہل قدمی کے متعدد طبی فوائد ہوتے ہیں جبکہ باہر کے چٹ پٹے کھانوں کی بجائے گھر کی تیار کردہ خوراک کا استعمال جسمانی وزن کو کم رکھنے اور بیماریوں سے بچنے کا آسان ترین طریقہ ہے۔ہاورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران گھر کے بنے کھانوں کے فوائد کا جائزہ ایک لاکھ سے زائد افراد میں لیا گیا جس کے بعد معلوم ہوا کہ جو لوگ باہر کی بجائے گھر کے کھانے استعمال کرتے ہین انہیں موٹاپے اور ذیابیطس سے کافی ھد تک تحفظ ملتا ہے۔یہ تحقیق امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سائنٹیفک سیشن 2015 کے دوران پیش کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…