جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

صرف 8 مہینے میں 66 کلو وزن کم، لاہور کے نوجوان نے موٹاپے سے نجات کیسے حاصل کی؟ خود ہی سب کچھ بتا دیا

datetime 2  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) موٹاپا ایک بیماری ہے مگر بعض لوگ موٹاپے کو صحت بھی سمجھتے ہیں، کہتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے۔ پوری دنیا میں لوگ اپنے آپ کو دبلا اور چست رکھنے کے لیے طرح طرح کی ورزشیں کرتے ہیں اور خوراک ایسی استعمال کرتے ہیں کہ موٹے

نہ ہوں لیکن ہمارے ملک میں لوگ موٹاپے پر اتنی توجہ نہیں دیتے بہت ہی کم لوگ ہوں گے جو موٹاپے کو کنٹرول کرنے کے لیے کوشش کرتے ہیں انہی لوگوں میں سے ایک نوجوان جو 26 سالہ طالب علم علی بٹ ہے نے اپنا موٹاپا کم کرنے کے لیے کوشش کی اور آٹھ مہینوں کے اندر اپنا وزن انتہائی کم کر لیا اور دبلے پتلے ہو گئے۔ ایک ویب سائٹ Parhlo کے مطابق لاہور سکول آف اکنامکس میں ایم بی اے کے طالب علم علی بٹ کا وزن 148کلو گرام تک پہنچ گیا تھا اس موقع پر علی بٹ نے موٹاپے سے نجات کا فیصلہ کیا اور خوراک کے ساتھ ساتھ سخت ورزش کی۔ علی بٹ نے کہا کہ وزن میں کمی کا خواب صرف خوراک کم کرکے پورا نہیں کیا جا سکتا بلکہ آپ کو یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ آپ کس قسم کی خوراک کھا رہے ہیں۔ علی بٹ نے بتایا کہ اس نے اپنی زیادہ توجہ پروٹین والی غذاؤں اور انڈوں پر رکھی اور باقاعدگی سے سخت ورزش بھی کی۔ مناسب خوراک اور سخت ورزش کی بدولت انہوں نے 82 کلو وزن کو کم کرکے اپنا وزن 66 کلوگرام کر لیا، انہوں نے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کیں جس سے موٹاپے کم کرنے کی ان کی کامیاب کاوش کا پتہ چلتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…