منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

ایک چمچ زیتون کے تیل میں لیموں کا رس ڈالئے اور پھر، ایسا جادوئی نسخہ جو بوڑھے کو بھی جوان بنا دے

datetime 2  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زیتوں کا تیل اور لیموں دونوں ہی صحت بخش غذائوں کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ اطبا زیتون کے پھل، تیل کو کئی امراض میں استعمال کرتے ہیں تاہم اب ایک ایسا ہی نسخہ سامنے آیا ہےجو نہصرف ناخنوں کی حفاظت ،بالوں

کی حفاظت اور ان کو چمکدار اور مضبوط اور خشکی سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ بدہضمی اور پیٹ میں گیس کی شکایت پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس نسخہ کو تیار کرنے کیلئے ایک چمچ زیتون کے تیل میں لیموں کے رس کے چند قطرے ڈال لیں اور نسخہ تیار، اس کو خراب ناخنوں پر لگائیں تو چند ہی دنوں میں آپ کےخراب ناخن صحتمند اور چمکدار ہو جائیں گے ۔ جبکہ بے جان اور خشک بالوں میں اس کی مالش کرنے سے نہ صرف خشکی سے نجات حاصل ہو گی بلکہ آپ کے بال چمکدار اور مضبوط ہو جائیں گے یہ آنتوں کی تنگی اور بندش بھی دور کرتا ہے۔ اس طرح یہ قبض کیلئے انتہائی مفید نسخہ ہے جبکہ بدہضمی اور گیس ٹربل میں بھی مفید ہے۔بوڑھے مردو خواتین جو جوڑوں کے درد میں مبتلا ہیں ان کو جوڑوں کے درد سے نجات کیلئے بھی یہ نسخہ استعمال کیا جا سکتا ہےجبکہ یہ نسخہ دوران خون کو بہتر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…