پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال،افسوس ناک انکشافات 

datetime 1  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)جماعۃالدعوۃ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی اور مولانا امیر حمزہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کی تحریک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے۔ یو این اور دیگر عالمی اداروں کو ہندوستانی فوج کی اس دہشت گردی کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے اور بھارت سرکار پر دباؤ بڑھانا چاہیے کہ وہ

کشمیر سے اپنی فوجیں نکالے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق خودارادیت دے۔ اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہاکہ بھارت مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ میں لیکر گیا۔ اس سلسلہ میں یو این کی بیسیوں قراردادیں موجود ہیں لیکن بھارتی حکمران ان قرادادوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے نہتے کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں اور اب اس نے مظلوم کشمیریوں کیخلاف کیمیائی ہتھیاروں کااستعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مغربی ملک اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے خاموشی تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور بھارتی ظلم و بربریت روکنے کیلئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی جارہیں۔ جماعۃالدعوۃ کے رہنماؤں نے کہاکہ بھارت اور اسرائیل کشمیر و فلسطین میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہے ہیں لیکن دونوں ملکوں کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں ہے۔دو دن قبل فلسطینی مسلمانوں سے یکجہتی کا عالمی دن بھی منایا گیا ہے تاہم افسوسنا ک امر یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں کی جانب سے اسرائیلی ظلم و بربریت روکنے کیلئے مضبوط پالیسیاں ترتیب نہیں دی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ فلسطینی مسلمانوں سے یکجہتی کیلئے صرف ایک دن منانا ہی کافی نہیں ہے۔ مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی ہر ممکن مددوحمایت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کی تحریک ان کی اپنی ہے۔ وہ اس تحریک میں لازوال قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ شہداء کی قربانیاں جلد ان شاء اللہ رنگ لائیں گی اور وہ جلد آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…