جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جب ادارے کام نہیں کریں گے تو متبادل فوج ہی کام سنبھالے گی، سپریم کورٹ نے اہم حکم جاری کر دیا

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے لیاری میں متروکہ وقف املاک کی عمارت پر قبضہ اور غیرقانونی تعمیرات کرنے والے ٹھیکیدار کو گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے رقم وصول کرکے مکینوں کو دینے کی ہدایت کی ہے ۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے جب ادارے کام نہ کریں تو متبادل کے طور پر فوج ہی ہے ، جب کام نہیں ہوگا تو فوج ہی نظر آے گی۔

جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لیاری میں متروکہ وقف املاک کی عمارت پر قبضہ اور غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کیس کی سماعت کی ،سرکاری اداروں کی کارکردگی پر عدالت برہم ہوگئی۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی وجہ سے شہر کا نقشہ ہی بدل گیا ہے ایس بی سی اے پولیس کی مدد مانگتی ہے، پولیس رینجرز کی مدد مانگتی ہے جب ادارے کام نہ کریں تو متبادل کے طور پر فوج ہی ہے ، جب کام نہیں ہوگا تو فوج ہی نظر آے گی ، ریاستی مشینری تباہ ہوگئی ہے ۔سماعت کے دوران پولیس نے عمارت کی ملکیت کے دعویدار شنکر لعل کا کریمنل ریکارڈ پیش کردیا ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہاایوکیو ٹرسٹ، سندھ بلڈنگ اتھارٹی اہنی ذمہ داری ادا نہیں کررہے ،عدالت کو آئین کے آرٹیکل187کے تحت اپنا اختیار استعمال کرنا چاہیے جس پر جسٹس گلزار احمد نے کہاسندھ حکومت کے افسران بے حس ہیں اپنی سرکاری نوکریوں کا حق ادا نہیں کررہے ، سرکاری افسران کام نہ کرانے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں عدالت کے حکم پر ٹھیکیدار عبدالکریم کمرہ عدالت سے گرفتارکرلیا عدالت نے حکم دیا کہ ٹھیکیدار سے رقم وصول کرکے مکینوں کو دی جائے ،اورمکینوں کو معاوضہ ادا کرکے ایک ماہ میں عمارت خالی کرائی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…