جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں حکومت مخالف شدت پسندوں کو سخت سزائوں کا رواج ہے مگر اب ایسا کام ہو گیا کہ جس نے سنا وہ ہکا بکا رہ گیا، ان افراد کیساتھ اب کیا سلوک کیا جا رہاہے

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ریاض(آن لائن/مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب نے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے نیاطریقہ تلا ش کر لیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق دنیابھرمیں جہاں شدت پسندوں کودیکھتے ساتھ ہی جیل کی کسی تنگ وتاریک کوٹھڑ ی میں پھینک دیاجاتاہے کے برعکس سعودی عرب میں شدت پسندی کیخلاف جنگ میں ایک نیاطریقہ فروغ پارہاہے جس میں شدت پسندانہ

رجحانات اورنظریات کاشکارہونے والے افرادکاعلاج کرنے کیلئے انہیں بحالی کے مرکزمیں رکھاجاتاہے جس میں سوئمنگ پول موجودہیں اورفن کے ذریعے ایسے مریضوں کی تھراپی کی جاتی ہے۔اس سلسلے میں سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں محمدبن نایف کاؤنسلنگ اورکیئرسنٹرقائم ہے ۔یہ بنیادی طورپر 5 سٹارریزورٹ (سیرگاہ) ہے جس کا انتظام علماء دین اورماہرین نفسیات کے پاس ہے۔مرکزکے ایک ڈائریکٹریحییٰ ابومغایدکے مطابق ہمارابنیادی محوران شدت پسندوں کے تخیلات ،ان کے خام خیالات اوراسلام سے پھرجانے کی اصلاح ہے۔مرکزمیںآنے والے مرضاء کوہم یہ باورکراتے ہیں گویاوہ عام انسانوں جیسے ٹھیک ٹھاک لوگ ہیں اوران کے پاس معاشرے میں واپس آنے کا موقع موجودہے۔نظریاتی علاج کاایک جزیہ ہے کہ کہ اس سینٹر میں لائے جانے والے مرضاء کیلئے ہرگزلفظ قیدی یا حوالاتی نہ استعمال کیاجائے کیونکہ اس سے منفی اثرمرتب ہوسکتاہے۔بجائے یہ کہ رہائشی یہ محسوس کریں کہ کچھ زبردستی کروایاجارہاہے،حکام علاج کیلئے موجودمرضاء کواپنے خاندانی بندھن بڑھانے کی تلقین کرتے ہیں۔یہ ایک ایسا نفسیاتی طریقہ ہے جس کے باعث شدت پسندانہ ذہنیت اورجرائم کے مرتکب افرادکیلئے واپس اپنے پرانے طورطریقوں پر آنانہایت مشکل ہوگا۔سینٹرمیں موجودتدریسی ماہرنفسیات کے مطابق دہشت گردی کامقابلہ طاقت سے نہیں کیاجاسکتا۔ 2004 ء

میں قائم ہونے والے اس ریہاب سنٹرمیں اب تک دہشت گردی سے وابستہ مختلف جرائم کے مرتک 3,300 سے زائدافرادکاعلاج کیاجاچکاہے۔اس ضمن میں اس ادارے کی کامیابی کی شرح 86 فیصدہے۔بقیہ 14 فیصدنے واپسی پرگمراہ رویہ ظاہرکیااوران میں سے چندہی واپس عسکریہ پسندانہ زندگی میں لوٹ گئے۔واضح رہے کہ آپریشن راہ راست کے دوران سوات میں بھی پاک فوج نے دہشتگردوں

کی برین واشنگ سے متاثرہ نوجوانوں کی بحالی کیلئے ایسے ہی سینٹرز کا قیام عمل میں لایا تھا۔ خیال رہے کہ راحیل شریف بھی ان دنوں سعودی عرب میں اسلامی اتحادی فوج کی سربراہی کیلئے موجود ہیں اور اس وقت اس فوج کی تربیت کا عمل جاری ہے جبکہ سعودی فوج اور حکومت دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کر چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…