پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی کیلئے کس تاریخ کو خط لکھا تھا،ضلعی مجسٹریٹ سب کچھ سامنے لے آئے

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی کیلئے چوبیس نومبر کو متعلقہ حکام کو خط لکھا تھا ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاک فوج کی جانب سے حکومت کی طرف سے فوج کی تعیناتی سے متعلق خط پر ایک جواب میں کہا گیا تھا کہ رینجرز کی موجودگی کے باوجود انہیں امن وامان کے قیام کیلئے تعینات نہیں کیا گیا تھا ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے کہا کہ

چوبیس نومبر کے خط میں درخواست کی گئی تھی کہ رینجرز کو 25نومبر چھ بجے صبح تعینات کیا جائے ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے خط میں تجویز دی گئی تھی کہ کسی حادثاتی حالات سے نمٹنے کیلئے رینجرز تعینات کی جائے اور وہ ہنگامہ آرائی کی صورت میں خصوصی یونیفارم بھی پہنیں ۔دریں اثناء پاک فوج کی جانب سے اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کی درخواست کے جواب میں حکومت کو ایک خط میں چند غور طلب معاملات کی طرف توجہ دلائی ہے ۔مراسلہ میں کہاگیا کہ فوج اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر نے کیلئے تیار ہے تاہم مراسلے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ فوج صرف ہجوم اور احتجاج کر نے والوں کو منتشر کر نے نہیں بلکہ ہنگامہ آرائی ختم کر نے کیلئے استعمال کی جاتی ہے ۔خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ کلیئرنس آپریشن میں اسلحہ کے استعمال سے بھی منع کیا گیا ہے ۔فوج کے مراسلے میں یہ بھی کہاگیا کہ اسلام آباد میں پولیس کے ساتھ رینجرز تعینات رہی ہے لیکن اس کے باوجود رینجرز کو تحریری ہدایات جاری نہیں کئے گئے جس پر پہلے اتفاق ہوا تھا۔خط میں مزید کہا گیا کہ دھرنا مظاہرین سے نمٹنے کیلئے پولیس کو بھی موثر طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا اور نہ ہی پولیس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا گیا ہے ۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز جنرل سٹاف برانچ ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے 25نومبر کوجن کو خط بھیجا گیا ہے ان میں وزیراعظم آفس ٗ سیکرٹری وزارت دفاع ٗ ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز پنجاب ٗڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ٗ چیف کمشنر اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد شامل ہیں ۔ اسلام آباد میں دھرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں فوج کی تعینات کیلئے باضابطہ خط لکھا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…