اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا کی بندش سے پہلے تو کوئی ہلاک نہیں ہوا تھا لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟ سلیم صافی نے سنگین دعویٰ کر دیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی سلیم صافی نے چینل نشریات اور سوشل میڈیا کی بندش کو غلط قرار دے دیا، تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے چینل نشریات اور سوشل میڈیا کی بندش کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بندش ہونے سے پہلے تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا لیکن اس وقت لوگ عجیب سی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں اور اب عجیب و غریب افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ سینئر صحافی سلیم صافی نے کہا کہ

حکومت نے آپریشن شروع کیا تو شاید سارا معاملہ قابو میں آ جاتا مگر انہوں نے چینل اور انٹرنیٹ بند کرکے خود ہی منفی پیغام دے رہے ہیں کہ جیسے قیامت آ گئی ہو اور اب ہر پاکستانی تشویش میں مبتلا ہے، گومگو کی کیفیت ہے، حکومت نے تو بالکل الٹ کام کیا ہے۔ سلیم صافی نے کہا کہ اگر حکومت نے کچھ کرنا ہی تھا تو بہت پہلے کیا جانا چاہیے تھا، انہوں نے کہا کہ جب مظاہرین گھروں سے نکل رہے تھے تو اس وقت انٹیلی جنس رپورٹس بھی ضرور ہوں گی تو پنجاب حکومت نے انہیں اس وقت آنے سے کیوں نہیں روکا؟ انہوں نے کہا کہ پھر جب یہ لوگ اسلام آباد آ گئے اور وہاں دھرنا دے دیا تو اس کے بعد سوشل میڈیا پر اشتعال پھیلاتے رہے اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی استعمال کرتے رہے، مگر اس دوران حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا اور جس طرح وہ پروپیگنڈا کرنا چاہتے تھے اور جو باقی لوگ کرنا چاہ رہے تھے وہ انہوں نے بھرپور طریقے سے کر لیا۔ سلیم صافی نے کہا کہ جب ڈیڈ لائن ختم ہو گئی اور ان کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا اور میڈیا پر دکھایا جا رہا تھا تو خوش آئند بات یہ تھی کہ پولیس کو بندوق استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی اور نشریات بند ہونے تک ایک انسانی جان بھی ضائع نہیں ہوئی تھی لیکن اب حکومت نے جو کر دیا ہے، اس کی وجہ سے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، معروف صحافی نے جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندر اس طرح یکدم چینلوں کو بند کرنے سے لوگوں کے ذہنوں میں عجیب طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں اور عوام غیر یقینی سی صورتحال کا شکار ہیں، وہ سوچ رہے ہیں کہ اب پتہ نہیں کیا ہو گا، حکومت نے چینل نشریات اور انٹرنیٹ بند کرکے خود ہی دھرنے والوں کی مدد کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…