پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

سوال یہ نہیں حکومت نے ترامیم واپس لے لیں ،سوال یہ ہے یہ جرات کس نے کی ،کس کے کہنے پر کی اور کیوں کی ؟دھماکہ خیزاعلان کردیاگیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ ختم نبوت کے قانون سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو بر طرف کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے ۔انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے عوامی

تحریک کی سنٹرل کور کمیٹی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت سوال یہ نہیں کہ حکومت نے ترامیم واپس لے لیں اور اصل قانون بحال کر دیا سوال یہ ہے کہ یہ جرات کس نے کی ،کس کے کہنے پر کی اور کیوں کی ؟ذمہ داروں کو اس لئے بچایا جا رہا ہے کہ اس سازش کا کھرا اشرافیہ کے گھروں کی طرف جاتا ہے۔ سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن میں خون بہانے والے حکمرانوں نے ختم نبوت کے عقیدے پر حملہ کر کے کروڑوں اسلامیان پاکستان کے مذہبی جذبات کا خون بہایا۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ حکومت ایک دو وزراء کو بر طرف کرنے کی بجائے پورے ملک کو بد امنی کی آگ میں جھونک رہی ہے۔اول روز سے یہ مطالبہ ہے کہ ذمہ داروں کو سزا دی جائے یہ اسلامیان پاکستان کا اجتماعی مطالبہ ہے ۔دریں اثناء اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ پولیس ان قاتل حکمرانوں کے کہنے پر گولی نہ چلا ئے ورنہ جس طرح پنجاب پولیس کے 124افسران اور اہلکار سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں انسداد د ہشتگردی کی عدالت کی خاک چھان رہے ہیں ، حکمرانوں کے غیر قانونی احکامات ماننے والوں کا انجام اس سے مختلف نہیں ہو گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…