ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کا موجودہ عدالتی نظام کیسا ہے،قائد اعظم یونیورسٹی کی تحقیق میں تشویشناک انکشافات

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن )قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس کی ریسرچ ٹیم نے ضلع اسلام آباد کی عدالتوں میں آنے والے سائلین کے مقدمات کے اعداد و شمار سے نتائج اخذ کئے ہیں کہ موجودہ عدالتی نظام عام شہری کو سستے انصاف کی فراہمی میں مددگار نہیں ہے ریسرچ کے نتائج کے مطابق مقدمات کی اوسط لاگت /اخراجات سائلین کی اوسط آمدنی سے بہت زیادہ ہے جو کہ موجودہ عدالتی نظام اور اس کے ڈھانچے پر سوالیہ نشان ہے ۔ریسرچ ٹم کے

سربراہ ڈاکٹر انور شاہ کے مطابق حالیہ نظام عدلیہ کی بنیاد سرمایہ داری نظام سے مربوط ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام فرد کی آزادی کی اہمیت سمجھے بغیر لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے ٗ نتیجتاًمعاشرہ عدم مساوات کا شکار ہے کہ کچھ لوگ زندگی کی تمام سہولیات تک رسائی حاصل کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ ان سہولیات سے محروم رہتے ہیں اس عدم مساوات کے اثرات ریاست کے دیگر بنیادی اداروں کی سطح مثلاً عدلیہٗ انتظامیہ اورمقننہ تک موجود ہے۔ ڈاکٹر انور شاہ کے اس تحقیقی کام کا مقصد پاکستان کے نظام عدل میں انصاف تک رسائی حاصل کرنے میں عدم مساوات کے پہلو پر روشنی ڈالناہے۔ جہاں یہ نظام عدل کئی لوگوں کی مدد کا سبب ہے وہیں دوسری جانب متعد د انصاف سے محروم ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ متذکرہ نظام ماضی کی کئی حکومتوں سے متاثر ہے جیسا کہ برطانوی نو آبادیاتی دور کے اثرات انتظامی و عدالتی نظام ہائے پر واضح ہیں ۔ یہ تحقیق اس بات پر منتج ہے کہ اس طرح کا عدالتی نظام ثمر آور نہیں ہوسکتا جب تک موجودہ معاشی نظام کو زمینی حقائق سے مربوط نہیں کیا جاتا اور ایسے معاشرے کی تشکیل کی کوشش نہیں کی جاتی جس میں انصا ف کے حصول کے لئے اخراجات کا بوجھ فرد اور سائلین کی بجائے معاشرہ خود برداشت کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…