ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

جماعت اسلامی کے 6 رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی گئی

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک )بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں خصوصی ٹربیونل نے جماعت اسلامی کے 6 رہنماؤں کو موت کی سزا سنادی۔ان رہنماؤں کو 1971 میں پاکستان سے آزادی کے دوران مبینہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزا سنائی گئی۔ سزائے موت پانے والوں کی شناخت ابو صالح محمد عبدالعزیز میاں، روح الامین عرف منجو، ابومسلم محمد علی، عبدالطیف، نجم الہدا اور عبد الرحیم میاں شامل ہیں۔مجرمان میں سے

عبدالطیف اس وقت جیل میں ہیں جبکہ دیگر مفرور ہیں۔جسٹس محمد شاہین الاسلام کی سربراہی میں بین الاقوامی جرائم کے ٹربیونل ’ون‘ کے تین رکنی پینل نے فیصلہ سناتے ہوئے انسپیکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) اور وزارت داخلہ کو مفرور مجرمان کی جلد گرفتاری کی ہدایت کی۔مجرمان کو ذیلی ضلع گائے بندھا صدر کے گاؤں موجامالی میں ہندو شخص کو لوٹنے اور قتل کرنے، چھترا لیگ کے رہنما کے قتل اور ضلع کے قصبے سندر گنج کی پانچ یونینز کے 13 چیئرمین و اراکین کو قتل کرنے تین الزامات کا سامنا تھا۔23 اکتوبر کو پراسیکیوٹر سید حیدر علی نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے ٹربیونل سے ملزمان کو سزائے موت دینے کی استدعا کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ملزمان کے خلاف تینوں الزامات کو ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔دوسری جانب وکیل صفائی غازی تمیم ملزمان کی رہائی کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ’پراسیکیوشن کوئی بھی الزام ثابت نہیں کرسکی۔‘ٹربیونل نے گزشتہ سال 28 جون کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں اس سے قبل بھی جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کو 1971 کے جرائم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے2010 میں متنازع جنگی ٹربیونل تشکیل دیا تھا جس نے جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت کو پھانسی اور سزائیں سنائیں، جس کے نتیجے میں ملک گیر ہنگامے پھوٹ پڑے اور سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔بنگلہ دیش کی اعلیٰ عدالت نے 2013 میں جماعت اسلامی کے منشور کو ملک کے سیکولر آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…