جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

افغان مسئلے کا حل،دوغلی پالیسی اب نہیں چلے گی،پاکستان کا عالمی طاقتوں کو انتباہ،بڑا اعلان کردیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ مذاکرات اور فوجی طاقت کا استعمال ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے ٗ دونوں کا ایک ساتھ استعمال افغانستان میں عدم استحکام اور افغان عوام کے مصائب میں اضافہ کرے گا ٗ افغان طالبان مذاکرات کی میز پر آئیں ۔ جنرل اسمبلی میں افغانستان کی صورتحال پر مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ مذاکرات اور فوجی طاقت کا استعمال

ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے اور دونوں کا ایک ساتھ استعمال افغانستان میں عدم استحکام اور افغان عوام کے مصائب میں اضافہ کرے گا۔پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے مسئلہ کے سیاسی حل پر زور دیا ہے اور وہ جنگ سے تباہ حال اس ملک میں امن مذاکرات کے فروغ کے لئے تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔دنیا کے طاقتور ممالک کی طرف سے گذشتہ سولہ سال کے دوران فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہیں کیا جا سکا۔عالمی برادری یقیناً افغانستان میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے لیکن اس عمل کی قیادت افغان عوام کے ہاتھ میں ہی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے کی جانے والی ہر کوشش بشمول ہارٹ آف ایشیا، سکس پلس ون، انٹرنیشنل کانٹیکٹ گروپ ، کواڈریلیٹرل کوارڈینیشن گروپ ، ماسکو فارمیٹ اور کابل پراسس میں حصہ لیا ہے۔پاکستانی مندوب نے اس موقع پر افغان طالبان سے بھی اپیل کی کہ وہ تشدد ترک کر کے مذاکرات کی میز پر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ پیش رفت اس وقت ہو سکتی ہے جب افغان فریق بھی اس بات سے متفق ہوں کہ امن فوجی طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ غیر مشروط مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔پاکستان افغان جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس نے لاکھوں افغان مہاجرین کے کئی عشروں سے اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے۔افغانستان میں تشدد پسندوں اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کا گٹھ جوڑ بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پاکستانی مندوب نے بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…