بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

افغان مسئلے کا حل،دوغلی پالیسی اب نہیں چلے گی،پاکستان کا عالمی طاقتوں کو انتباہ،بڑا اعلان کردیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ مذاکرات اور فوجی طاقت کا استعمال ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے ٗ دونوں کا ایک ساتھ استعمال افغانستان میں عدم استحکام اور افغان عوام کے مصائب میں اضافہ کرے گا ٗ افغان طالبان مذاکرات کی میز پر آئیں ۔ جنرل اسمبلی میں افغانستان کی صورتحال پر مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ مذاکرات اور فوجی طاقت کا استعمال

ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے اور دونوں کا ایک ساتھ استعمال افغانستان میں عدم استحکام اور افغان عوام کے مصائب میں اضافہ کرے گا۔پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے مسئلہ کے سیاسی حل پر زور دیا ہے اور وہ جنگ سے تباہ حال اس ملک میں امن مذاکرات کے فروغ کے لئے تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔دنیا کے طاقتور ممالک کی طرف سے گذشتہ سولہ سال کے دوران فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہیں کیا جا سکا۔عالمی برادری یقیناً افغانستان میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے لیکن اس عمل کی قیادت افغان عوام کے ہاتھ میں ہی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے کی جانے والی ہر کوشش بشمول ہارٹ آف ایشیا، سکس پلس ون، انٹرنیشنل کانٹیکٹ گروپ ، کواڈریلیٹرل کوارڈینیشن گروپ ، ماسکو فارمیٹ اور کابل پراسس میں حصہ لیا ہے۔پاکستانی مندوب نے اس موقع پر افغان طالبان سے بھی اپیل کی کہ وہ تشدد ترک کر کے مذاکرات کی میز پر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ پیش رفت اس وقت ہو سکتی ہے جب افغان فریق بھی اس بات سے متفق ہوں کہ امن فوجی طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ غیر مشروط مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔پاکستان افغان جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس نے لاکھوں افغان مہاجرین کے کئی عشروں سے اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے۔افغانستان میں تشدد پسندوں اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کا گٹھ جوڑ بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پاکستانی مندوب نے بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…