جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

شاندار مستقبل کے خواب لئے یورپ جانے کے خواہشمندوں کے ساتھ لیبیا میں کیا ہورہاہے؟ لرزہ خیزانکشافات

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

طرابلس (این این آئی)لیبیا میں اس جدید دور میں بھی لوگوں کو غلام بنائے جانے اور ان کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق لیبیا میں لوگوں کو غلام بنایا جاتا ہے اور اس کیلئے صحت مند اور زیادہ سے زیادہ کام کرنے والے افراد کی بولیاں لگائی جاتی ہیں ٗلیبیا میں لوگوں کو غلام بنانے کے حوالے سے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس کی بنیاد پر سی این این کی ایک ٹیم گزشتہ ماہ لیبیا

پہنچی جہاں دارالحکومت طرابلس سے کچھ دوری پر واقع ایک مرکز کا دورہ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق لوگوں کی نیلامی کی بولی لگانے والے ایک شخص نے چہرہ چھپانے کی شرط پر لوگوں کی بولیاں لگاتے ہوئے فلم بندی کے لئے رضا مندی کا اظہار کیا جس کے بعد وہ غلام بنائے گئے افراد کی بولیاں لگاتا رہا جس پر خریدار غلام کی صحت کے مطابق اس کی بولی پر ہاتھ اٹھاتے رہے۔ایک غلام کی کم سے کم قیمت 500 ڈالر تھی جبکہ 550، 600 اور 650 ڈالر تک غلاموں کی بولیاں لگائی گئیں۔رپورٹ کے مطابق غلاموں کی خرید و فروخت ملک کے مختلف شہروں میں ہورہی ہے جس میں زووارا، گریان، الرجبان، کبہ الزنتان سمیت دیگر شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہر سال لیبیا کی سرحد عبور کر کے ہزاروں افراد شاندار مستقبل بنانے کیلئے یورپ کا رخ کرتے ہیں اور انہی لوگوں کو غلام بنا لیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق پناہ گزینوں کو غلام بنانے اور ان کی فروخت کے معاملے کے شواہد لیبیائی حکام کے حوالے کردیے گئے ہیں جبکہ طرابلس حکام نے شفاف تحقیقات کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔دوسری جانب غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام کے لئے بنائے جانے والے ادارے کے فرسٹ لیفٹیننٹ ناصر حازم نے تسلیم کیا کہ ملک میں انسانی اسمگلرز کے مختلف گروہ کام کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…