بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

اسلام آباد دھرنے کے شرکاء کیخلاف طاقت کااستعمال ،جماعۃ الدعوۃ نے حکومت کوممکنہ ردعمل سے خبردارکردیا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی)جماعۃ الدعوۃ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد دھرنے کے شرکاء کیخلاف طاقت کے استعمال سے گریز کرے‘ اس سے ملک میں انتشار پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ ختم نبوت قانون میں ترمیم کرنے والے پوری پاکستانی قوم کے مجرم ہیں۔قومی اسمبلی میں ختم نبوت قانون کی بحالی قابل تحسین اقدام ہے

لیکن قانون میں ترمیم کرنے والے وزیر قانون زاہد حامد اور دیگر ذمہ داران کو فوری برطرف کر کے قرارواقعی سزا دی جائے۔انہیں سزائیں نہ ملنے سے 20کروڑ پاکستانیوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔اس سلسلہ میں کسی قسم کی غفلت یا مصلحت پسندی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ ختم نبوت قانون میں ترمیم کی کوششیں ایک منظم سازش کے تحت کی گئیں۔ ایسی ناپاک جسارت کرنے والوں کو بے نقاب کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ چھپانے کی کوششیں اسلام دشمنی کے مترادف ہیں۔ ملک میں لبرل ازم اور سیکولر ازم پروان چڑھانے کی خاطر ایسی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ سینئر سیاستدان راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں تحقیقاتی رپورٹ تیار کئے جانے کے باوجود اسے سامنے کیوں نہیں لایا جارہا؟۔ حکومت جان بوجھ کر اس رپورٹ کو کیوں چھپانے کی کوشش کر رہی ہے؟۔ عقیدہ ختم نبوت کے حوالہ سے پہلے سے بنے ہوئے قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔عبدالرحمن مکی نے کہاکہ ختم نبوت قانون میں ترمیم کے حوالہ سے تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہ آنے سے پاکستانی قوم میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔

پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کیا گیا ملک ہے۔ جن لوگوں نے ختم نبوت قانون میں ترمیم کی ان کی نشاندہی کر کے قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔ قوم اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح دشمنان اسلام کی شروع دن سے کوشش رہی ہے کہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کو ختم کیا جائے۔ اسی طرح پاکستان میں ناموس رسالتؐ اور ختم نبوت کے حوالہ سے قوانین کی بھی انہیں سخت تکلیف ہے۔ بیرونی قوتوں کی سرپرستی میں چلنے والی بہت سی این جی اوز یہاں غیر قانونی سرگرمیاں پروان چڑھا رہی ہیں اور اسلامی قوانین کے خاتمہ کیلئے کروڑوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔ ایسی ملک دشمن این جی اوز کا پاکستان سے بوریابستر گول کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ عقیدہ ختم نبوت قانون کا بھرپور دفاع کریں گے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…