پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

بھارتی ریاست میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیدیا گیا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

حیدرآباد (آئی این پی ) بھارتی ریاست تلنگانہ کی اسمبلی نے ایک قانون سازی کی منظوری دیتے ہوئے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیدیا،ریاست میں اردو بولنے والے خاصے لوگ آباد ہیں، جو تمام 31 اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں۔تلنگانہ سرکاری زبانون کا ترمیمی بل 2017 منظور کیا گیا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔حیدرآباد دکن سے ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ 2014 میں تلنگانہ کی ریاست وجود میں آئی، اور اس کے 10

اضلاع کو گذشتہ برس تنظیم نو کے دوران 31 میں بانٹا گیا۔ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ریاست کی مجموعی آبادی میں اردو بولنے والی آبادی کی تعداد میں 12.69 کی شرح سے اضافہ آیا ہے۔رکن اسمبلی، اکبرالدین اویسی نے بِل کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پہلے اردو کے ساتھ انصاف نہیں برتا گیا۔ اس ضمن میں، انھوں نے اپنے والد، مرحوم صلاح الدین اویسی اور دیگر دانشوروں کی کوششوں کا ذکر کیا، جن کا مقصد زبان کا تحفظ اور ترویج ہے۔کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے راہنما، ٹی جیون ریڈی نے قانون سازی کا خیرمقدم کیا۔ تاہم، انھوں نے اردو اکیڈمی سے متعلق چند معاملات کی جانب دھیان مبذول کرایا؛ جس کی معاون وزیر اعلی محمود علی اور قانون سازی کے امور کے وزیر، ہریش را نے وضاحت پیش کی۔بی جے پی کے سرکردہ قائد، کشن ریڈی نے کہا کہ سنہ 1966 میں تلنگانہ کے خطے کے نو اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا۔ہریش را نے کہا کہ حزب اختلاف یہ کہنا چاہتی ہے کہ اس بل میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاہم، پوری ریاست کو اب ایک اکائی کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے۔انھوں نے دعوی کیا کہ تلنگانہ پہلی ریاست ہے جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے، جس سے قبل دہلی نے پنجابی کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی یہی درجہ دیا گیا تھا۔کشن ریڈی نے الزام لگایا کہ حالانکہ تلگو پہلی سرکاری زبان ہے۔ لیکن، اسے مثر طور پر ابھی تک سرکاری دفاتر اور انتظامی اداروں میں نافذ نہیں کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…