پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

اسلام آباد دھرنے کے مظاہرین نے دھوکا دیا ،کیا کہا تھا اور کیا کردیا؟وفاقی وزیر طلال چوہدری کے انکشافات

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ دھرنے والوں کو لاش چاہیے ،راستہ کھلنے کا وقت قریب ہے ،طاقت کا استعمال آخری آپشن ہوگا۔میڈیا سے گفتگو سے قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد دھرنے کے مظاہرین نے

حکومت کو دھوکا دیا اور ہم نے دھوکا کھایا ٗمظاہرین کے رہنماؤں نے کہا تھاکہ وہ دعا کرکے واپس چلے جائیں گے ۔وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد میں دھرنے کی روایت قائم کی گئی ہے ٗ دارالحکومت میں 126 دن جو دھرنا دیا گیا اس کو لانے اور بٹھانے والی بہت سی پارٹیاں ہیں۔ان کا کہناتھاکہ مظاہرین بارہ مطالبات لے کر آئے تھے، مظاہرین سے گیارہ نکات پر بات ہوئی تھی،دوران بات چیت مظاہرین کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ وہ دعا کر کے واپس آجائیں گے۔اس موقع پر سینیٹر رحمن ملک نے استفسار کیا کہ حکومت بتائے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر کب تک عمل درآمد کرائیں گے ؟وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ مظاہرین کو پارلیمینٹ کو طمانچہ نہیں مارنا چاہیے،دھرنے پر بیٹھے لوگوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم اور انتظامی حکم بھیج دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پارلیمنٹ کے اندر سے ہی کچھ لوگ طمانچہ مارنے والوں کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔سینیٹر رحمٰن ملک نے وزیر مملکت کو یقین دہائی کرائی کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے جو بھی کارروائی کرے گی کمیٹی اس کا ساتھ دے گی ۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں حکومت طے شدہ مقامات پر ہی احتجاج کی اجازت دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…